مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 122 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 122

د و مشعل راه جلد دوم فرموده ۱۹۶۸ء 122 دکھا کے اصلاح کی کوشش نہ کریں بلکہ پیار سے اصلاح کرنے کی کوشش کریں اور پیار میں جتنی طاقت ہے وہ مادی ذرائع میں نہیں۔نہ سکے میں ہے، نہ چھپڑ میں، نہ لاٹھی میں، نہ بندوق میں اور نہ ایٹم بم میں کسی میں بھی وہ طاقت نہیں۔اسلام کی طاقت میں یورپ کے دورہ پر گیا تو وہاں کے لوگوں کے سامنے میں نے یہ بات رکھی۔دینی لحاظ سے وہ بھی بچے ہیں ناں۔آپ سے بھی کم عمر بچے۔دین ان کی عقلوں میں بمشکل آتا ہے۔میں یہ بات ان کے سامنے بار بار رکھتا تھا کہ دلوں کو بدلنا مذ ہب کا کام ہے اگر ہم ساری دنیا کے ایٹم بم لا کر بھی کسی ایک دل میں نیک تبدیلی پیدا کرنے کی کوشش کریں تو ایسا نہیں کر سکتے۔ایٹم بم لاکھوں کروڑوں آدمیوں کی جان تو لے سکتے ہیں لیکن ایک دل میں نیک تبدیلی پیدا نہیں کر سکتے۔لیکن اسلام اتنا ز بر دست اور طاقتور مذہب ہے کہ اس نے کروڑوں کے دلوں میں تبدیلیاں پیدا کر دیں۔ایسی نیک تبدیلیاں کہ وہ دل جو سیاہ تھے اللہ تعالیٰ کی ذات تو خیر بہت ہی پاک ہے۔انسان کی نظر بھی جب ان پر پڑتی تھی تو گھن آنے لگی تھی اور طبیعت متلا جاتی تھی لیکن اب وہی دل جن کو اسلام نے بدلا ہے اتنے حسین ہو گئے ہیں کہ الفاظ ان کے حسن کو بیان نہیں کر سکتے۔وہ سچ بولنے والے ہیں۔ہمدرد اور لوگوں کی خدمت کرنے والے ہیں۔لوگوں کو آرام پہنچانے والے ہیں میٹھی زبان رکھنے والے ہیں۔اپنے نیک نمونہ سے دلوں کو کھینچنے والے ہیں۔یہ لوگ مخلوق کے ایک حصہ کو بھینچ کر محمد رسول اللہ ﷺ کے قدموں میں لے آئے ہیں اور کہا ہے کہ یہ ہے تمہارا نجات دہندہ۔پہلے مسلمانوں کی نسل تو چند صدیوں بعد کمزور ہوگئی تھی لیکن ہماری نسل کمزور نہیں ہونی چاہیے ہم سے اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ پھر اسلام کو اپنے فضل اور رحم سے غالب کرے گا اور اگر ہم اپنی نسلوں کی صحیح تربیت کرتے چلے جائیں گے تو اللہ تعالیٰ کے انعامات ہم پر قیامت تک بارش کے قطروں کی طرح برستے رہیں گے۔اب ہر بچہ اگر اس وقت سوچے تو اسے سمجھ آجائے گا کہ جب تیز بارش ہورہی ہو تو اس کے قطرے گنے نہیں جا سکتے۔لیکن ہو سکتا ہے کہ انسان کوئی ایسا آلہ ایجاد کر دے کہ وہ بارش کے قطرے گن اور معلوم کرلے کہ ایک منٹ میں ایک فٹ جگہ میں اتنے سو یا اتنے ہزار قطرے پڑ رہے ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ کی نعمتیں اس قد را ور اس تعداد میں نازل ہو رہی ہیں کہ دنیا کا کوئی ایسا آلہ نہیں بنایا جا سکتا جو خدا تعالیٰ کے فضلوں کی گنتی کر سکے۔اللہ تعالیٰ کے فضل بے شمار ہیں۔دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ بعض زمینیں بنجر ہوتی ہیں اور بعض علاقے ایسے ہوتے ہیں کہ وہاں بارش نہیں ہوتی۔مثلاً صحرا ہیں کہ سالہا سال گزر جاتے ہیں وہاں بارش نہیں ہوتی۔نہ وہاں بوٹیاں اگتی ہیں نہ گھاس۔لیکن بعض علاقے ایسے ہوتے ہیں جو ہر وقت سرسبز رہتے ہیں۔ہمیں اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے کہ ہم روحانی طور پر وہ علاقے ہیں کہ جہاں ہر وقت سرسبزی اور شادابی رہتی ہے۔خوبصورتی رہتی ہے۔کہیں اعمال صالحہ