مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 120
د مشعل راه جلد دوم فرموده ۱۹۶۸ء 120 مضبوط بنیادوں پر کھڑے کئے جاتے ہیں ان کی دیواروں کو بارشوں، آندھیوں اور زلزلوں کے نتیجہ میں بعض دفعہ بلکا سا نقصان تو پہنچ جاتا ہے لیکن وہ اپنی بنیادوں پر قائم رہتے ہیں لیکن اگر اوپر کی دیوار میں بڑی مضبوط ہوں اور بنیاد کمزور ہو تو تھوڑی سی آفت ہی اس مکان کو گرا دے گی۔کیونکہ جب بنیاد ہلے گی تو دیوار کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہو وہ گر جائے گی۔اسی طرح اگر ہم خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ کی پوری تربیت کر لیں تو ٹھیک ہے لیکن اطفال کے دور میں سے گزر کر جب وہ ہمارے پاس پہنچیں اور ان کی بنیادیں مضبوط نہ ہوں تو بڑی دقت پیش آئے گی۔پھر بنیادوں کوکھودنا پڑے گا۔ان میں سیمنٹ بھرنا پڑے گا۔( میں ظاہری مثال دے رہا ہوں ) اور بڑی کوشش کے نتیجہ میں ان کی حفاظت کی جاسکے گی۔لیکن اگر بنیاد مضبوط ہو تو اوپر کی مرمتیں تو نسبتا کم خرچ اور سہولت کے ساتھ کی جاسکتی ہیں۔غرض جہاں تک آپ کا تعلق ہے نیکی کی بنیاد آپ کی عمروں میں قائم ہو جانی چاہیے اور اس لئے قائم ہو جانی چاہیے کہ اسلام کے قائم کرنے اور محمد رسول اللہ ﷺ کے مبعوث کئے جانے کا یہ مقصد نہیں تھا کہ صرف ایک نسل کی اصلاح کی جائے۔اصل مقصد تو یہ تھا قیامت تک ہر نسل جو پیدا ہو اس میں نیکی کی بنیادیں بڑی مضبوط ہوں اور نیکی کی مضبوط بنیادوں پر قائم ہو کر وہ اپنی زندگیوں کو اس رنگ میں گزار ہیں کہ وہ دنیا کیلئے ایک نمونہ بنیں۔اس بنیادی اصول کو بھولنے کا نتیجہ ایک وقت کے بعد مسلمان اس بنیادی اصول کو بھول گیا نتیجہ یہ ہوا کہ باوجود اس کے کہ ساری دنیا میں سب سے زیادہ اثر مسلمانوں ہی کا تھا۔لیکن اس بنیادی اصول کو بھولنے کے نتیجہ میں بعد کی نسلیں جب پیدا ہوئیں تو آہستہ آہستہ ان کی تربیت میں کمی واقع ہوتی گئی اور جوں جوں ان کی تربیت میں کمی ہوئی نیکی کی بنیادیں کمزور ہوتی گئیں اور جوں جوں نیکی کی بنیاد میں کمزور ہوتی گئیں وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے اس قدر وارث نہ رہے کہ جس قدر ان کے باپ دادا تھے اور غیروں کو ان پر فوقیت حاصل ہوگئی۔اس دنیا میں (اخروی زندگی میں ) کسی کو جنت کا نچلا حصہ ملے گا اور کسی کو اوپر کا حصہ ملے گا لیکن ہماری جنت اسی دنیا سے شروع ہو جاتی ہے اور اس دنیا کی جنت کیلئے اللہ تعالیٰ نے یہ شرط لگائی ہے کہ دنیا بھی تبھی ملے گی جب تم اس دنیا میں میری جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔یہ شرط غیر مسلموں پر نہیں لگائی۔غیر مسلموں کیلئے اللہ تعالیٰ نے یہ اصول بنایا ہے کہ اگر وہ دنیا کمانے کی صحیح تدبیر کریں گے تو انہیں دنیا مل جائے گی۔لیکن آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔وہاں انہیں جہنم میں جلنا پڑے گا۔اس دنیا میں ان کی کوشش اور تدبیر کے مطابق انہیں دنیوی انعام ملتے رہیں گے اور مل رہے ہیں۔لیکن مسلمان کیلئے اللہ تعالیٰ نے یہ شرط لگائی ہے کہ تمہیں دنیا صرف اس وقت ملے گی جب تم دینی اور روحانی لحاظ سے میری رضا کی جنتوں میں داخل ہو جاؤ گے۔جب آہستہ آہستہ بنیاد کمزور ہونی شروع ہوئی اور بہت ہی کمزور ہوگئی تو ہم مسلمانوں کو دنیا کی ذلتیں اٹھانی پڑیں۔ان ذلتوں کو سوچ کر بھی انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔دماغ بڑا پر ایشان