مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 60 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 60

فرمودہ ۱۹۶۷ء 60 د دمشعل ل راه جلد دوم غرض یہ تھا وہ زمانہ جس کے متعلق میں نے بڑے اختصار کے ساتھ اپنے چھوٹے بچوں کے سامنے کچھ بیان کیا ہے۔اپنی طرف سے میں نے یہ کوشش کی ہے کہ میں بڑے سادہ طریق سے یہ باتیں آپ کو سمجھاؤں۔خدا کرے کہ آپ کے ذہن میں یہ باتیں آجائیں۔پھر جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس وقت بتایا تھا۔مسلمانوں کے بعد میں آنے والی نسلوں نے اپنے بچوں کا خیال نہیں رکھا۔وہ یہ سمجھے کہ ہم قرآن کریم سیکھے ہوئے ہیں۔پڑھے ہوئے ہیں انہوں نے بچوں کی تعلیم کی طرف توجہ نہیں کی اور خیال کیا جدوں وڈا ہو ئیدا تے آپے ای سکھ لے گا۔بعض ماں باپ اس قسم کے بھی ہوتے ہیں لیکن جو بچہ بچپن میں نہیں سیکھتا وہ وڈے ہو ئے کس طرح سیکھ جائے گا۔اسے کون سکھائے گا۔بہر حال انہوں نے ایسا کرنا شروع کیا نتیجہ یہ ہوا کہ بعد میں ایسی نسل پیدا ہوئی کہ جس کو اسلام کا کچھ پتہ نہیں تھا بچپن میں اس کو کسی نے کچھ سکھایا ہی نہ تھا اور جب ان کے اوپر سکھانے کا وقت آیا تو جن کو آپ کچھ آتا نہیں تھا وہ سکھاتے کیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان قرآن کو بھول گیا اور اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ کیا تھا میں تمہاری اس وقت تک مدد کروں گا جب تک تم میری باتیں مانو گے۔قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی باتیں ہیں۔خدا تعالیٰ نے یہ وعدہ کیا تھا کہ جب تک تم میری باتیں مانو گے میں تمہاری مدد کرتا چلا جاؤں گا اور دنیا میں صرف تم ہی غالب ہو گے۔دنیا میں صرف تمہاری عزت ہوگی۔دوسری قوموں کی عزت نہیں ہوگی۔یہ دنیا بھی ( گو تمہیں اس میں کوئی دلچسپی نہیں ) تمہیں دیدوں گا لیکن ایک شرط ہے کہ جو میری باتیں ہیں وہ تم نے مانتی ہیں۔جب بچوں کو کسی نے بتایا نہیں کہ جب تک تم اللہ تعالیٰ کی بات ماننے کے لئے تیار نہیں ہوگے اس وقت تک اللہ تعالیٰ کے جو فضل اور نعمتیں ہیں وہ بھی تمہیں نہیں ملیں گی۔غرض جب سیکھنے کا وقت تھا ان کو کسی نے سکھایا نہیں اور جب سکھانے کا وقت آیا اس نسل کے لئے تو اس وقت ان کو آتا ہی کچھ نہیں تھا۔وہ کسی کو کیا سکھاتے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کی مرد انہیں ملنی بند ہوگئی۔پھر مسلمانوں پر وہ ظلم ہوا ہے کہ جب ہم پڑھتے ہیں ہمیں رونا آتا ہے۔ہمارے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ قرآن کریم کو چھوڑ کر اور اللہ تعالیٰ سے منہ موڑ کر انہوں نے کسی قسم کی ذلتیں اور شکستیں اُٹھائی ہیں اور کس قسم کے ظلم ان کو سہنے پڑے۔پھر جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ علیہ سے وعدہ کیا تھا وہ زمانہ آ گیا جب اسلام نے ساری دنیا پر پھر غالب آنا تھا۔خدا تعالیٰ نے ایک شخص کو پیدا کیا۔اس شخص کے دل میں اپنی محبت انتہائی شدت کے ساتھ پیدا کی۔اس سے زیادہ محبت اللہ تعالیٰ سے محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نہیں کر سکتا اور اس شخص کے دل میں قرآن کریم کی محبت کو پیدا کیا، محمد رسول اللہ ﷺ کی محبت کو پیدا کیا اور اس نے قرآن کریم پڑھتے ہوئے ایک نکتہ معلوم کیا اسے سیکھا اور اس پر عمل کیا اور وہ یہ تھا کہ اگرتم اللہ تعالیٰ کا محبوب بننا چاہتے ہو۔اگر تم یہ چاہتے کہ تمہارا پیدا کرنے والا تم سے پیار کرے اور پیار کے نتیجہ میں اس نے اپنی مخلوق کی ہر چیز تمہارے سپرد کی ہے تو ایک شرط ہے کہ تم محمد رسول اللہ علیہ کی اتباع کرو۔آپ کی پیروی کرو اور قرآن کریم جو کہتا اسے سمجھو اور مانو اور اس پر عمل کرو۔غرض یہ راز