مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 59 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 59

59 فرمودہ ۱۹۶۷ء دو مشعل راه جلد دوم جاتی ہے۔انگریزوں کی طاقت بڑی سمجھتی جاتی ہے۔اس نے سمجھا کہ اب ہمیں اپنی طاقت کو استعمال کرنا چاہیے اور اس قوم کو جو خدائے واحد ( ایک اللہ) کی پرستش کی طرف دنیا کو بلا رہی ہے مٹادینا چاہیے۔ایک طرف وہ بڑی طاقتیں تھیں جو حضرت مسیح (علیہ السلام) کو خدا سمجھتی تھیں انہوں نے کہا یہ کون آگئے مسیح سے خدائی چھینے والے اور دوسری طرف بت پرست اور توہمات کی پرستش کرنے والے تھے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پرانے عقیدے ہیں۔ہم بھی اور ہمارے ماں باپ بھی ہمارے دادا وغیرہ بھی ان چیزوں کی عبادت کرتے چلے آئے ہیں اور اب یہ ایک نیادین پیدا ہو گیا ہے جو کہتا ہے کہ ان چیزوں کی عبادت نہ کرو۔ایک اللہ کو مانو۔جولوگ بہت سے خداؤں کو مانتے تھے ان کو یہ بات سمجھ نہ آئی۔کیونکہ جو شخص بہت سے خداؤں کو مانتا ہے اس کا دماغ روشن نہیں ہوتا کند ہوتا ہے۔وہ یہ سمجھے کہ نبی کریم ﷺ نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ میں نے یعنی محمد رسول اللہ علی اللہ نے سارے خداؤں کو ملا کر ایک خدا بنا دیا ہے۔ان کا خیال تھا کہ مثلاً پیتل کے بہت سارے بت ہوں۔ایک شخص یہ کہے کہ ان بہت سارے بتوں کی کیا پوجا کرنی ہے آ ؤان سب کو پگھلاتے ہیں اور پھر ایک بہت بڑا بت بنا لیتے ہیں اور وہ بت ان سارے بتوں کا قائم مقام ہو جائے گا کیونکہ سارے بتوں کا پیتیل اس میں شامل ہو جائے گا۔وہ سمجھے کہ شاید اس قسم کی کوئی بات اس نے کی ہے۔وہ مرنے کے لئے تیار ہو گئے۔ہر قوم نے کہا کہ ہم تو اپنا بہت چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ایک خدا کا تم کیا نعرہ لگا رہے ہو۔لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ نے کہا تھا کہ دنیا میں تمہیں اور تمہارے ماننے والوں کو میں غالب کروں گا۔اس لئے جب ساری دنیا کی طاقتیں اسلام کو مٹانے کے لئے جمع ہو گئیں تو اللہ تعالیٰ نے مزید نصرت اور زیادہ تعداد میں فرشتوں کو نازل کیا اور انہوں نے ان کو شکست دے دی اور ساری دنیا میں اسلام غالب آ گیا۔شیطان نے تلوار کے زور سے اسلام کو مٹانا چاہا تھا۔اللہ تعالیٰ نے کہا کہ ان ٹوٹی پھوٹی تلواروں کے ساتھ میں شیطان کی گردن اڑا دوں گا۔چنانچہ جو خدا نے کہا وہ پورا ہوا اور ساری دنیا میں اسلام پھیل گیا۔یہ جو قربانیاں تھیں جو اس وقت دی گئیں ان میں صرف بڑے ہی شامل نہیں تھے بلکہ تمہارے جیسے بچے بھی شامل تھے۔بچوں کی ذمہ داری بچوں کی بڑی ذمہ داری سیکھنے کی ہوتی ہے۔اس وقت کے جو بچے تھے انہوں نے اپنے بڑوں (یعنی صحابہ) سے اچھے طور پر سیکھا اور پھر جب یہ بچے جوان ہوئے تو قرآن کریم کہتا ہے کہ ان کو سارے مسئلے معلوم تھے۔ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت تھی۔ان کے دل میں محمدرسول اللہ یا اللہ کی محبت تھی اور پھر جو کام انہیں اپنے زمانہ میں کرنے چاہئے تھے وہ انہوں نے کئے وہی چھوٹے چھوٹے بچے جب بڑے ہوئے تو انہوں نے اپنے زمانے میں ایسے کام کئے ہیں کہ جب ہم پڑھتے تھے تو ان کے کاموں کو پڑھ کر ہماری طبیعتوں میں بڑی خوشی پیدا ہوتی تھی اور ہم کہتے تھے کہ کتنے اچھے تھے اس وقت کے یہ بچے کہ جب وقت تھا سیکھنے کا انہوں نے دُنیا میں اپنے بڑوں سے قرآن کریم کو سیکھا اور اس کا نور حاصل کیا اور جب سکھانے کا وقت آیا تو وہ دنیا کے بہترین استاد ثابت ہوئے۔