مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 61 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 61

61 فرمودہ ۱۹۶۷ء دو مشعل راه جلد دوم اس شخص نے ہاں اس بچہ نے جو ۱۸۳۵ء میں پیدا ہوا تھا۔معلوم کیا اور اس نے کہا بڑا ستا سودا ہے اگر میں محمد رسول اللہ علیہ سے محبت کروں اور قرآن کریم پر عمل کروں تو میرا خدا مجھ سے پیار کرنے لگ جائے گا۔بچو! اس نے قرآن کریم پر غور کرنا شروع کیا اور نبی اکرم ﷺ کی خوبیوں کو پہچاننا شروع کیا اور اس کا دل اپنے اللہ کی محبت سے محمد رسول اللہ علہ کے عشق سے اور قرآن کریم کے نور سے اس طرح بھر گیا جس طرح سمندر کی زمین پانی سے بھری ہوئی ہوتی ہے اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ دیا تھا یعنی اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ لے کو وعدہ دیا تھا۔اس شخص کو منتخب کیا تا وہ اسلام کو دنیا میں دوبارہ غالب کرے اور اس کو کہا کہ کھڑا ہو۔اُس کا دل یہ چاہتا تھا کہ اللہ تعالیٰ مجھے کسی ایسے کام پر نہ لگائے تا میں اپنی ساری عمر خدا تعالیٰ کی عبادت میں۔محمد رسول اللہ علے پر درود بھیجنے میں۔قرآن کریم پڑھنے اور اس کی مطالب پر غور کرنے اور اس کی جو خوبیاں ہیں ان کو سمجھنے اور اس نے لوگوں پر اور مجھ پر جو احسان کیا ہے اس احسان کے طور پر حمد اور شکر میں اپنی زندگی کے دن گزاروں۔مگر اللہ تعالیٰ نے کہا نہیں۔مجھے اس وقت محمد رسول اللہ ﷺ کے روحانی بچوں میں سے ایک بچہ کی ضرورت ہے جو میرے حکم پر کھڑا ہو اور میرے نام پر دنیا کو اسلام کی طرف اور محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف بلائے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر اور اپنی طبیعت کے خلاف اس نے یہ دعویٰ کیا۔اور جب دعوی کیا تو پھر دنیا نے ان کو ”مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کے نام سے یاد کیا۔ان کے ماں باپ نے تو ان کا نام غلام احمد رکھا تھا۔قوم ان کی مغل تھی۔اس لئے ان کو لوگ مرزا غلام احمد کہتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے کہا تیرے ماں باپ نے تو تیرا نام غلام احمد رکھا ہے لیکن میں تمہارا نام مسیح موعود اور مہدی معہود رکھتا ہوں۔یعنی میں تجھ سے وہ کام لوں گا جو کام میں نے محمد رسول اللہ ﷺ سے کہا تھا کہ تیرے روحانی بچوں میں سے ایک بچہ لے لوں گا۔اور وہ کام ہے اسلام کو پھر دوبارہ دنیا میں غالب کرنے کا۔چنانچہ آپ (اگر چہا کیلے تھے ) کھڑے ہوئے اور دنیا میں اعلان کر دیا کیونکہ جب خدا تعالیٰ کسی کو حکم دے تو وہ خاموش تو نہیں رہ سکتا۔آپ کو یہ علم تھا کہ جب میں اعلان کروں گا تو ساری دنیا میری مخالف ہو جائے گی۔جب میں خدا تعالیٰ کی طرف سے اسلام کو دوبارہ غالب کرنے کے لئے کھڑا کیا جاؤں گا تو خود مسلمان اپنی نا سمجھی اور جہالت کے نتیجہ میں میرے خلاف ہو جائیں گے لیکن خدا کا کہنا کون موڑ سکتا ہے؟ کوئی نہیں موڑ سکتا۔چنانچہ آپ کھڑے ہوئے۔آپ نے دُنیا میں اعلان کر دیا کہ خدا نے مجھے مسیح بھی بنا دیا ہے۔مہدی بھی بنا دیا ہے اور ان وعدوں کے مطابق بنا دیا ہے۔جو اس نے محمد رسول اللہ اللہ سے کئے تھے اور یہ بات کوئی کس طرح کہہ سکتا ہے جب تک اللہ تعالیٰ نہ کہے۔اتنی واضح بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ ایک علامت بتائی تھی کہ میں کسی کو تیرے بچوں میں سے مسیح اور مہدی بنا کر کھڑا کروں گا تو اس مہدی کی سچائی کے لئے چاند اور سورج کو کہوں گا کہ آگے بڑھو اور گواہی دو۔اب چاند اور سورج کو میں یا آپ تو کچھ نہیں کہہ سکتے۔اور اگر میں یا آپ چاند اور سورج کو کہیں تو وہ ہماری بات کبھی نہیں مانیں گے۔وہ تو کہیں گے ہم خدا تعالیٰ کے غلام ہیں ہم تمہاری بات کیسے مان لیں۔ہم تو وہی کریں گے جو