مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 464 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 464

مشعل راه جلد دوم د را فرموده ۱۹۷۸ء سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ کے سالانہ اجتماع کا افتتاح کرتے ہوئے ۱/۲۰اکتو بر ۱۹۷۸ء ۴ بجے شام خدام سے جو خطاب فرمایا اس کا مکمل متن درج ذیل ہے۔464 تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: - سب سے پہلے تو میں حکومت کا شکر یہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے ہمیں پھر سے کھلی فضاء میں خدام الاحمدیہ کا اجتماع منعقد کرنے کی اجازت دی۔اللہ تعالیٰ انہیں جزاء دے۔میں ایک لمبا عرصہ ملک سے باہر رہا ہوں اور باہر جا کر وہیں کے اخبار دیکھنے ہوتے ہیں جو کہ ہر ملک متعلق اپنی مخصوص قسم کی باتیں لکھتے ہیں۔یہاں آ کر مجھے اس بات سے خوشی ہوئی کہ حکومت وقت کے نزدیک حالات اتنے سدھر گئے ہیں کہ پہلے تبلیغی جماعت کا جلسہ ہوا اور وہ پر امن طور پر ہو گیا پھر ملتان میں سنیوں کی طرف سے بہت بڑا اجتماع ہوا۔میں نے پڑھا تو نہیں کہ اس میں کتنے آدمی تھے لیکن جو تصویر میں نے اخبار میں دیکھی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کئی لاکھ کا اجتماع تھا اور وہ بڑے امن سے گزر گیا۔حکومت نے اس کی اجازت دی اور اب یہ ہمارا مختصر سا اجتماع منعقد ہورہا ہے۔یہ واقعات یہ جلسے بتا رہے ہیں کہ ہمارے ملک میں جو ایک غلط قسم کی فضا پیدا ہوگئی تھی وہ سدھرنے لگی ہے اور حالات پہلے سے بہت بہتر ہو چکے ہیں۔فالحمد للہ علی ذلک یہ زمانہ اسلام کے غلبہ کا زمانہ ہے ہم یہ کہتے ہیں اور بشارتوں کے مطابق یہ کہتے ہیں کہ اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود مہدی موعود علیہ السلام اور آپ کی جماعت کو اللہ تعالیٰ نے اس غرض کے لئے آلہ کار بنایا ہے کہ اسلام دنیا میں غالب ہو۔ساری دنیا میں تمام ممالک میں اس کرہ ارض کے کونے کونے میں براعظموں میں بھی اور جزائر میں بھی۔اس دنیا پر جب ہم نگاہ ڈالتے ہیں جس کے متعلق ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس میں اسلام اس زمانہ میں غالب آئے گا تو ہمیں بعض تو میں دنیوی لحاظ سے بہت ترقی یافتہ نظر آتی ہیں اور وہ اتنی مہذب ہیں کہ بہت سے دوسرے ممالک جن کا ان قوموں کے ساتھ عقیدہ اور عادہ روایۃ اور ثقافتہ کوئی تعلق نہیں ہے وہ بھی ان کی نقل کرنے لگ جاتے ہیں اور اس نقل پر فخر کرتے ہیں۔باوجود یہ سمجھے جانے کے کہ وہ بہت ہی مہذب اقوام ہیں اور انہوں نے بعض میدانوں میں بے شک ترقی بھی کی ہے لیکن ان کی حالت کوئی ایسی اچھی نہیں ہے۔جب ہم انہیں غور سے دیکھتے ہیں اور ان کی زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں تو ان کی تہذیب میں ہمیں بہت سی بنیادی کمزوریاں نظر آتی ہیں۔ان میں ایک یہ ہے جس کا