مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 463 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 463

463 فرمودہ ۱۹۷۷ء دد و مشعل راه جلد دوم حضرت مسیح موعود محض مسجد دنہیں امام آخرالزمان بھی ہیں میں مختصر بتا دیتا ہوں آپ سن لیں اور یا درکھیں۔آپ نے فرمایا ہے کہ اس معمورہ دنیا میں یعنی یہ جو ہماری زمین ہے اس میں ایک آدم پیدا نہیں ہوا بلکہ بیسیوں سینکڑوں بلکہ ہزاروں آدم ہمارے آدم سے پہلے پیدا ہو چکے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا یہ قانون نافذ ہے کہ ہر آدم کا دور سات ہزار برس کا ہوتا ہے یعنی ہر آدم کے آنے کے سات ہزار سال بعد اس کی نسل پر قیامت آجاتی ہے اور اگر خدا چاہے تو ایک اور آدم پیدا کر دیتا ہے۔اب ہمارے اس آدم کی نسل کی جو عمر ہے اس کے ساتویں ہزار میں داخل ہو گئے ہیں اور یہ آخری ہزار سال خدا اور اس کے مسیح کا ہے۔اور یہ ہزار سال صلاحیت اور نیکی کا اور تقویٰ کا ہے۔یعنی اسلام سب ادیان پر غالب آجائے گا۔پھر اسلام کا دور شروع ہو جائے گا۔اس کے بعد کسی مسیح کو قدم رکھنے کی جگہ نہیں یہاں تک کہ قیامت آجائے گی۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ پھر نبی پیدا کرنے کی خدا تعالیٰ کی جو طاقت ہے کیا وہ ختم ہو جائے گی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ کہتے ہیں ہمارے آدم کی نسل میں ایک لاکھ بیس ہزار یا بعض کہتے ہیں ایک لاکھ بیس ہزار نبی پیدا ہوئے۔اگر اس آدم کی نسل پر قیامت برپا ہوئی اور ایک اور آدم پیدا ہوگیا تو ایک لاکھ چوبیس ہزار اور نبی پیدا ہو جائے گا۔پس خدا تعالیٰ کی یہ طاقت ہے کہ وہ نبی پیدا کرتا ہے۔اس کی یہ طاقت بند تو نہیں ہوئی۔صرف اس نبوت کے مخاطب ابنائے آدم جو ہمارا آدم ہے، وہ نہیں ہوں گے بلکہ ابنائے آدم آخر جو بعد میں آنے والا آدم ہے اس کے ہوں گے۔ہمیں نہیں پتہ نہ ہمیں اس میں کوئی دلچسپی ہے، اپنی خیر منانی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی مول نہ لیں۔اس کے بعد ہمیں پتہ نہیں اس دنیا میں سو آدم آتا ہے یا ہزار آدم آتا ہے یا ایک لاکھ آدم آجاتا ہے۔لیکن اگر ایک لاکھ آدم آئے اور ایک لا کھ کو ایک لاکھ میں ہزار سے ضرب دے دو پھر بارہ ارب نبی تو آگئے۔اس لئے اللہ تعالیٰ کی ذات پر کوئی اعتراض نہیں پیدا ہوتا۔لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ منافق جب یہ کہتا ہے تو وہ گویا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقام کو گرا کر کہتا ہے کہ آپ مجدد تھے اور صدی کے آخر میں ایک اور مجدد آئے گا۔لیکن سنو آپ محض مجد نہیں تھے آپ مسیح بھی تھے، آپ مہدی بھی تھے، آپ امام آخر الزماں بھی تھے آپ مجددالف آخر بھی تھے، آپ محمد اللہ کے سب سے زیادہ محبوب بھی تھے اور خدا تعالیٰ نے آپ کو فرمایا ہے کہ قیامت تک کا زمانہ تمہارا زمانہ ہے۔اس لئے کوئی شخص آپ سے یہ زمانہ چھینے کیلئے تو نہیں آسکتا البتہ آپ کا خادم ہو کر آ سکتا ہے۔مگر خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ مسیح موعود علیہ السلام کے جو خادم آئے ہیں وہ خلفائے سلسلہ حقہ احمد یہ ہیں۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خادموں کے لشکر میں شامل ہو کر اور پھر مسیح موعود علیہ السلام اپنے ان تمام خدام کے لشکر کے ساتھ محمد ماہ کے دربار میں بطور ایک خادم کے کھڑے ہوئے ہیں۔اللهم صل علی محمد و ال محمد۔اب ہم عہد دہرائیں گے۔اس کے بعد ہم دعا کریں گے۔پھر میں آپ کو السلام علیکم کہوں گا اور آپ کو رخصت کروں گا۔میری دعا ہے سفر و حضر میں اللہ تعالیٰ آپ سب کا حافظ و ناصر ہو۔عہد دہرانے کے بعد حضور کی اقتداء میں دعا پر یہ با برکت اجتماع اختتام پذیر ہوا۔( بحوالہ روزنامه الفضل ۲۱ مئی ۱۹۷۸ء)