مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 465
465 فرموده ۱۹۷۸ء د و مشعل راه جلد دوم دد میں نے بعض پر یس کا نفرنسز میں ذکر بھی کیا کہ جب ظلم کی انتہاء ہو تو اگر اس کے مقابلے میں ایک اور ظلم ہو اور پھر اس کے بعد ایک اور ظلم ہو اور اس کے ردعمل میں ایک اور ظلم ہو تو یہ ظلم کا ایک بڑا ہی وسیع دائرہ بن جائے گا"vicious circle سر ظلم کا ردعمل ظلم ظلم ک ردعمل ظلم ظلم کا ردعمل ظلم اس دائرے کو دوہی چیز میں کاٹ کر ظلم کی جگہ انصاف کا ماحول پیدا کر سکتی ہیں۔ایک یہ کہ اگر یہ ظلم جنگوں کی شکل میں ظاہر ہو تو جیتنے والی اقوام شکست خوردہ اقوام کو معاف کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔اگر وہ معاف کر دیں گی تو ظلم کا خاتمہ ہو جائے گا۔یا اگر یہ نہیں تو مظلومیت یعنی ظلم سہہ لینا اور اس کا جواب نہ دینا بھی ظلم کا دروازہ بند کر دیتا ہے کیونکہ یہ vicious" "circle ویشس سرکل چالو ہی تب رہتا ہے جب اس کا رد عمل بھی ظلم ہو۔اسلام کا حسن سلوک اور جنگ عظیم اس سفر میں ایک پریس کانفرنس میں پہلے تو میں نے صحافیوں سے کہا کہ اسلام کے متعلق مجھ سے جو مرضی پوچھو میں جواب دوں گا لیکن وہ خاموش رہے تو میں نے کہا کہ اچھا آپ چاہتے ہیں کہ میں پہلے بات کروں۔چنانچہ میں نے یہ بات کی کہ آپ کی تہذیب دنیا میں بڑی اچھی سمجھی جاتی ہے مگر اس میں بنیادی نقائص بھی ہیں۔یہ فرینکفورٹ (جرمنی) کی بات ہے۔میں نے انہیں کہا کہ آپ لوگوں نے دو عالمگیر جنگیں لڑیں عیسائیوں نے عیسائیوں سے لڑائی کی اور ایک جنگ میں ایک طرف عیسائیوں کے ساتھ کیمونزم یاد ہر یت بھی شامل ہو گئی۔ان جنگوں کے جو واقعات محفوظ کئے گئے ان میں مجھے کہیں یہ نظر نہیں آیا کہ اتحادیوں نے جرمنوں اور ان کے ساتھیوں کے زیادہ آدمی قتل کئے یا جرمن قوم اور اس کے ساتھیوں نے اتحادیوں کے زیادہ آدمی قتل کئے۔یہ کہیں نہیں ملتا کہ جانی نقصان کے لحاظ سے کس نے دوسرے کی نسبت زیادہ ظلم کیا لیکن جب دو تو میں آپس میں جنگ کرتی ہیں تو بہر حال ایک وقت ایسا آتا ہے کہ جب ایک قوم جیت جاتی ہے اور دوسری شکست کھاتی ہے۔میں نے انہیں کہا کہ دونوں دفعہ ایسا ہوا کہ اتحادی جیتے اور جرمن قوم نے شکست کھائی۔تم لوگوں نے اپنے آدمی بھی مروائے اور شاید ان سے زیادہ مروائے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جان لینے کے لحاظ سے تم سے زیادہ ظالم تھے مگر وہ جیت گئے اور انہوں نے تمہیں معاف نہیں کیا۔ان پر اتنا تاوان جنگ ڈالا گیا جو قوموں کی کمر توڑ دینے والا ہے مگر وہ قوم بڑی سخت ہے اس کو بھی سہہ گئی۔پھر ان کے ساتھ حقارت کا سلوک کیا وہاں پر چھاؤنیاں ڈال لیں اور بہت برا سلوک ان سے کیا۔پہلی جنگ عظیم کے بعد اسی قسم کا سلوک تھا جس کے نتیجے میں انسان کو دوسری جنگ عظیم لڑنی پڑی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد اسی قسم کا ظلم تھا جس کے نتیجے میں اب وہ ڈر رہے ہیں کہ تیسری جنگ عظیم جو بڑی ہولناک ہوگی اس کا سامنا نہ کرنا پڑے۔میں نے انہیں کہا کہ یہ تو تمہارے حالات ہیں لیکن انسانی تاریخ میں ایک اور واقعہ بھی گزرا ہے اور وہ یہ ہے کہ ایک شخص پر رؤسائے مکہ نے ۱۳ سال تک مکی زندگی میں انتہائی مظالم ڈھائے اور جب وہ یعنی محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ چلے گئے تو پھر آپ کا پیچھا کیا اور تلوار کے زور سے دل