مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 382 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 382

382 فرموده ۱۹۷۳ء دومشعل راه جلد دوم ۲ نومبر ۱۹۷۳ء کو مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے اکتیسویں سالانہ اجتماع سے سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے جو افتتاحی خطاب فرمایا۔اس کا متن پیش تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے یہ حصہ آیت تلاوت فرمایا: - کنتم خير امة اخرجت للناس (ال عمران: ١١١ ) اور فرمایا:- قرآن عظیم کی ایک آیہ کریمہ کے اس ٹکڑے میں جس کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے۔دوباتیں بیان ہوئی ہیں۔ایک یہ کہ امت مسلمہ خیر امت ہے۔اور دوسرے یہ کہ امت مسلمہ نوع انسانی کی خدمت اور بھلائی کے لئے بنائی گئی ہے۔پچھلے دو خطبات جمعہ میں اصولی اور تعلیمی لحاظ سے خیر امۃ کی جو بہت سی خیر کی صفات ہیں ان میں سے دو بنیادی صفات کے متعلق میں نے کچھ بیان کیا تھا۔اس امت کی ایک بنیادی صفت یہ ہے کہ یہ ایک ایسی امت ہے کہ جوز بر دست استعدادیں اور صلاحیتیں رکھتی ہے۔اور ان صلاحیتوں اور استعدادوں کی صحیح اور پوری نشو و نما کر کے انہیں اپنے معراج تک پہنچاتی ہے۔اس نقطہ نگاہ سے خیر امت کا ہاتھ ہمیشہ اوپر کا ہاتھ دینے والا ہاتھ خدمت کرنے والا ہاتھ۔احسان کرنے والا ہاتھ ہوگا۔احسان لینے والا یا مانگنے والا یا دوسروں پر انحصار کرنے والا یا غیر اللہ کی احتیاج دل میں رکھنے والا نہیں ہوگا۔اور خیر امت کی دوسری بنیادی صفت یہ ہے کہ وہ امین ہے۔یعنی قرآنی تعلیم کو بجھتی اور اس پر عمل کرتی اور اسے دوسروں کو سمجھاتی اور اس عظیم تعلیم اور ہدایت اور شریعت پر دنیا کو عمل کروانے کی کوشش کرتی ہے۔خدام الاحمدیہ کی اہمیت دام الاحمد یہ بڑی ذمہ داریوں کی حال ہماری ایک مجلس ہے۔نوجوان نسل جس نے اس رنگ میں تربیت حاصل کرنی ہے کہ وہ بڑھتی ہوئی ذمہ داریاں اور بڑھتے ہوئے بوجھ کو برداشت کرنے کی طاقت رکھتی ہو۔سائیکل چلانے کی تحریک انسانی جسم پر بنیادی طور پر دو قسم کے بوجھ پڑتے ہیں۔ایک وہ بوجھ ہے جو براہ راست اس کے جسمانی اور ذہنی قولی پر پڑتا ہے اور ایک وہ بوجھ ہے جو بالواسطہ اس کے جسمانی اور ذہنی قومی پر پڑتا ہے۔اس کے لئے جو تربیت جماعت اپنے ان پیارے بچوں کو دینا چاہتی ہے وہ یہ ہے کہ ان کے جسمانی قوئی اپنی نشو و نما کے کمال کو اس