مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 383
فرموده ۱۹۷۳ء 383 و مشعل راه جلد دوم رنگ میں پہنچا ئیں کہ دوسری ذمہ داریاں نبھانے کے بوجھ کو وہ برداشت کر سکیں۔ان میں سے ایک طریق جو ماضی قریب میں جاری کیا گیا ہے وہ سائیکل کا استعمال ہے۔میں نے جب ابتداء یہ تحریک کی تو مختصرا یہ اشارہ کیا تھا کہ اپنی صحتوں کو برقرار رکھنے کے لئے سائیکل کی طرف متوجہ ہوں۔کیونکہ آج کی سائنس اور علمی تحقیق نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ سائیکل چلانے سے عام صحت بھی اچھی ہوتی ہے اور انسانی جسم کو دل کی بیماریوں سے کافی حد تک حفاظت مل جاتی ہے۔اس وقت بعض عمر رسیدہ سائینسدان یا ڈاکٹر جن کو دل کی تکلیف تھی۔خود سائیکل چلاتے ہیں تا کہ دوائی کے علاوہ سائیکل کا چلانا ان کے دل کی بیماریوں کو دور کرنے کا باعث بنے۔سائیکل چلانے میں صرف یہی فائدہ نہیں اور بھی ہزاروں فوائد ہیں۔مثلاً آپ میں سے بہتوں کو اپنے گھر کے کام کاج کے لئے یا خریداری کے لئے بازار جانا پڑتا ہے۔اگر آپ کے پاس سائیکل ہو تو آپ اپنا بہت سا قیمتی وقت بچاسکیں گے۔اور وہ بشارت آپ کے وجود میں بھی پوری ہوگی جو مہدی معہود کو ان الفاظ میں دی گئی تھی کہ تو ایک شیخ ( بزرگ ) مسیح ہے جس کا وقت ضائع نہیں کیا جائے گا“۔پس ہمیں خاص طور پر اپنے اوقات کو معمور رکھنے کی طرف توجہ دینی چاہیے اور دوسرے کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے کی طرف توجہ دینی چاہیے تا کہ وہ برکات ہمارے وجود میں بھی پوری ہوں۔دیہاتی جماعتوں میں سے بعض نے اس طرف بڑی توجہ کی اور بعض نے اتنی توجہ نہیں کی۔میں بہت ہی خوش ہوں کہ جھنگ کے ہمسایہ ضلع ( یعنی سرگودھا) نے اس سکیم پر اس سے زیادہ عمل کیا جتنا بہت سے دوسروں نے کیا ہے اور بہت سے فوائد اس منصوبہ کے ان کے یا دوسرے افسروں کے سامنے آئے جن کی طرف انہیں پہلے توجہ نہیں تھی اور قریباً ہر گاؤں میں سرگودھا کا احمدی جو ان سائیکل سوار پہنچا ہے۔یہ ابھی ابتداء ہے۔ابھی آپ کو تربیت دی جارہی ہے اور ہم پہلے مرحلے میں سے گذررہے ہیں اور اگر ربوہ کے سائیکل اسی طرح اس اجتماع میں شامل سمجھے جائیں جس طرح کہ ربوہ کے خدام اس اجتماع میں شامل سمجھے جاتے ہیں۔تو اس اجتماع میں شامل ہونے والے سائیکلوں کی تعداد ایک ہزار سے کہیں بڑھ جاتی ہے۔باہر سے آنے والے سائیکل سواروں کی تعداد جو اس وقت تک علم میں آئی ہے وہ تو چھ سو باسٹھ ہے لیکن کچھ ایسے ہیں جنہوں نے اپنے نام ابھی تک رجسٹر نہیں کروائے اور توقع ہے کہ کچھ آج پہنچیں گے۔ان میں سے وہ ہیں جو کراچی سے سائیکل پر قریباً ۱۹۰ اور ۱۰۰ میل روزانہ طے کر کے آئے۔اور کچھ وہ ہیں جو تھر پارکر یا سندھ ( جو کہ قریباً کراچی جتنا فاصلہ ہے۔میرے خیال میں تمیں چالیس میل کا فرق ہوگا) وہاں سے آئے اور بڑی تیزی سے انہوں نے سفر کیا۔اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے۔ایک گروپ کو وہاں کی جماعت نے ہدایت کی کہ تم دن کو سفر کر نا رات کو نہ کرنا۔اور دوسروں کو یہ ہدایت نہیں تھی۔کراچی والوں نے دن کو سفر کیا۔تھر پار کر والوں نے اکثر رات کو سفر کیا۔دونوں وقتوں کے سفروں کے حالات ہمیں معلوم ہوئے کیونکہ ہر دو کو جس دن وہ یہاں پہنچے میں نے کہا تھا کہ ایک مختصری رپورٹ اپنے سارے احوال کے متعلق مجھے دو دن کے اندر لکھ کر دو۔انہوں نے دونوں مجلد رپورٹیں مجھے جمعرات کو پہنچا دی تھیں۔وہ بڑی دلچسپ ہیں میں نے