مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 317
د دمشعل قل راه جلد دوم فرموده ۱۹۷۲ء 317 اور زیادہ شدید پیار کے جلوے دیکھنے کی خواہش پیدا ہونی چاہیئے۔تو یہ ایک لالچ ہے یہ ایک خواہش جو انسان کے دل میں رکھی گئی ہے۔جس کا صحیح استعمال وہ ہے جو میں نے ابھی بتایا ہے۔لیکن بسا اوقات اس کا غلط استعمال بھی ہو جاتا ہے۔اور انسان چاہتا ہے کہ دنیا میں اسے زیادہ سے زیادہ ملے۔آج کے انسان نے اپنے میں انتہائی لالچ پیدا کی ہے۔اور زمین نے کہا میرے خزانے تیرے لئے کھلے ہیں۔وہ ایٹم جوزمین کے ذروں نے چھپارکھا تھا۔جب انسان نے کہا کہ مجھے اور چاہیئے تو زمین نے کہا اچھا یہ ایٹم بھی لے لو اور ایک نئی طاقت کا منبع اور سر چشمہ اس کے ہاتھ میں پکڑا دیا۔جب انسان نے کہا کہ میں زمین سے بھی راضی نہیں میں نے کہیں باہر کی سیر کرتی ہے۔زمین نے کہا یہ لو میرے اجزاء اور اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے قانون کے مطابق اس کو استعمال کرو۔تم چاند پر پہنچ جاؤ گے۔چاند پر انسان محض اپنی عقل سے نہیں پہنچتا۔یہ سائنسدان اگر کوئی بات کرے اسلام کے متعلق تو ایک بنیادی بات یا درکھو۔چاند پر انسان محض اپنی عقل کے زور سے نہیں پہنچ رہا چاند پر انسان جو اللہ تعالیٰ نے زمین ایک خلق پیدا کی ہے۔جو اشیاء پیدا کی ہیں خدا تعالیٰ کے بنائے ہوئے قانون کے مطابق اپنی عقل کو استعمال کر کے پہنچتا ہے۔اگر وہ نہ ہو تو یہ پھر کہتے کہ فلاں خرابی پیدا ہوگئی۔سات دن کے بعد راکٹ چلے گا۔کیا خرابی پیدا ہوگئی ؟ کبھی آپ نے سوچا؟ خرابی یہی پیدا ہوئی تھی کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کے قانون کے خلاف کوئی بات کر دی تھی۔اب پتہ لگا کہ ایسے کام نہیں چلے گا۔دنیوی لحاظ سے اور حسابی لحاظ سے ذہین اور جو دھاتوں کے ماہرین ہیں وہ لگے رہتے ہیں یہ دیکھنے کے لئے کہ اس رفتار میں فلاں چیز سے کثافت کے لحاظ سے کتنی رگڑ پیدا ہوگی۔اور اس سے یہ دھات جل تو نہیں جائے گی۔اور وہ سارے قیافے لگارہے ہوتے ہیں۔سالہا سال سے ہزاروں آدمی یہ کام کر رہے ہیں۔انسان کس بات کا کام کر رہا ہے۔کیا کوئی نئی چیز پیدا کر رہا ہے۔نہیں بلکہ جو خدا تعالیٰ پیدا کر چکا ہے اس کا علم حاصل کر رہا ہے اور اس کے بعد کچھ اور بھی کرتا ہے۔لیکن یہ خدمت کے اس مضمون کا دوسرا حصہ ہے اسے میں بعد میں لوں گا۔پس ایک قسم یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے کہا میں اشرف المخلوقات انسان پیدا کرنا چاہتا ہوں اس زمین کو تیار کروتا کہ یہ اسے قبول کرلے ایک یہ خدمت ہے جس میں ہماری کوشش اور عمل کا کوئی دخل نہیں ہے۔یہ ہماری یعنی اسلام کی اصطلاح میں رحمانیت کے جلوئے رحمانیت کے انعامات کہلاتے ہیں۔یعنی سارے عالمین کی خدمت میں نے کہا تھا کہ خدا نے ان عالمین کو انسان کے لئے مسخر کیا ہے اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ یہ سارے عالمین ہمارے علم کے بغیر ہماری کوشش کے بغیر ہماری پیدائش سے بھی قبل سے اپنا کام کر رہے تھے۔ہماری خدمت میں بھی لگے ہوئے تھے زمین کو ہمیں قبول کرنے کے لئے تیار کر رہے تھے۔اگر زمین میں پانی نہ ہوتا اس کی بجائے سمندر سلفیورک ایسڈ سے بھرے ہوئے ہوتے تو آدمی سلفیورک ایسڈ پی کر زندہ رہ سکتے تھے؟۔چوبیس گھنٹے میں ایک دفعہ پی کر دیکھ لیں آپ زندہ رہتے ہیں یا نہیں۔تو یہ پانی کس نے بنایا ہے۔عالمین کی خدمت کے نتیجہ میں پانی کی ی شکل بنی جسے انسان نے قبول کرنا تھا۔اور پھر یہ پھل پیدا ہوئے اور پھر یہ فصلیں اگیں۔اور یہ ہوا کہ اندر مختلف