مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 316
316 فرموده ۱۹۷۲ء د و مشعل راه جلد د۔دوم میں سے ایک غذا ہے۔تو آدم علیہ السلام سے لے کر اس وقت تک پیدا ہورہی ہے۔جو ہمارا آدم ہے اس پر بھی قریباً چھ ہزار سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا ہے۔وہ پہلے آدم نہیں تھے۔ان سے بھی پہلے آدم اس زمین پر پیدا ہوئے۔تاہم اگر یہی زمانہ لے لیں تب بھی چھ ہزار دفعہ ایک کھیتی نے اپنے خزانوں کو اگلا جو اس نے سورج سے لے کر اپنے پیٹ میں چھپائے ہوئے تھا۔تا کہ انسان اس سے فائدہ تھا سکے۔تو سورج نے اس زمین کو اشرف المخلوقات کے لئے تیار کیا۔اب دنیا میں بندر کی کوئی ایسی نسل نہیں ہے جو گندم اگائے۔آپ میں سے کسی کو معلوم ہو تو مجھے بتا دے۔کیا کوئی بندروں کی ایسی نسل ہے جو گندم اگایا کرے۔کوئی نہیں۔اسی طرح خرگوش کی کوئی ایسی نسل نہیں جو آموں کے باغ لگایا کرے۔کوئی نہیں۔وہ تو درخت پر چڑھ ہی نہیں سکتا۔اگر وہ لگا بھی لیتا تو اسے کھانے ہی نصیب نہیں ہوتے جب تک وہ سر کر نیچے نہ گر جائے۔اور کوئی کچھوا ایسا نہیں جو امرود کے باغ لگا کر بیٹھ جائے یہ تو کھاتے نہیں لیکن کوئی طوطا نہیں ہے۔جو آموں کا باغ لگائے آپ لگاتے ہیں تو پھر آ جاتے ہیں۔کہتے ہیں کہ ان کو غلیلیں مار مار کر یا پٹا نے۔چھوڑ چھوڑ کر یہاں سے اڑاؤ۔چڑیاں آجاتی ہیں۔ہمارے گندم کے کھیتوں سے کھاتی ہیں۔کئی دفعہ میری زمینوں پر کام کرنے والے آتے ہیں اور کہتے ہیں بڑی چڑی آگئی۔میں کہتا ہوں کہ جس وجود نے چڑیا کو پیدا کیا ہے اسی وجود نے چڑیا کے لئے غذا بھی پیدا کی ہے۔میں کون ہوتا ہوں روکنے والا۔تم ان کو کھانے دو۔اور ویسے ہی انسان گھبراتا ہے۔ایک دفعہ میں نے شرمندہ کرنا تھا اپنے کارکن کو۔وہ میرے ہاں کام کر رہا تھا۔میں نے کہا چڑیا کوئی چالیس پچاس من گندم کھا جائے گی۔کہنے لگا نہیں نہیں اتنی کیسے کھا جائے گی دس نہیں سیر کھا جائے گی۔میں نے کہا دس ہیں سیر کی خاطر تمہاری آنکھوں میں آنسو کیوں آرہے ہیں۔خدا نے ان کو پیدا کیا ہے تم ان کو کھانے دو۔ہمیں خدا تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے۔ہم خدا کے بندے ہیں۔ہماری بات ہی یہاں سے شروع ہوئی تھی کہ ہم خدا پر اعتقاد رکھتے ہیں اس نے یہ حکم دیا ہے کہ چڑیا کو ذبح کر کے کھا جائیں ہمیں خدا نے اس بات کی اجازت نہیں دی کہ چڑیا کو بھوکا رکھ کر مار دیں۔اس بات سے بڑی سختی سے منع کیا گیا ہے۔آنحضرت ﷺ نے اسے گناہ قرار دیا ہے۔پس ہم تو خدا کے بندے ہیں۔اگر چڑیا کسی کے کھیت سے کھاتی ہے تو یہ اس کا حق ہے۔خدا تعالیٰ نے اس کے لئے بھی اگایا ہے۔بہر حال میں یہ بتارہا ہوں کہ ساری دنیا جو پیدا کی اس کو کہا کہ زمین کو تیار کرو۔کہ میری جو اشرف المخلوقات نوع ہے۔وہ اس کے لئے مناسب بن جائے۔وہ اس کی ضرورتوں کو پورا کرے اور دوسری طرف انسان کو خدا نے عقل دی گو اس کے فائدے بھی ہیں اور اس میں بے ہودگیاں بھی ہیں اس کی لالچ دن بدن بڑھتی چلی جاتی ہے۔اصل تو یہ خواہش ہے کہ خدا تعالیٰ کے کسی پیار کے سہارے کھڑے ہو کر تسلی نہیں پالینی یعنی جو ۱۹۷۲ء میں خدا تعالیٰ جماعت احمدیہ سے پیار کرے یا یوں کہنا چاہیئے کہ جو ۱۹۷۱ء میں ہم نے اللہ تعالیٰ کے پیار کے جلوے دیکھے جماعت کو بحیثیت مجموعی اجتماعی زندگی میں تسلی نہیں پالینی چاہیئے۔کہ یہ ہمارے لئے کافی ہے اس لئے ہمیں اللہ تعالیٰ کے کسی اور پیار کی ضرورت نہیں ہے۔بلکہ ۱۹۷۲ء میں خدا تعالیٰ کے پیار کے زیادہ وسیع اور زیادہ گہرے