مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 307
دومشعل دوم فرموده ۱۹۷۲ء 307 حضور نے ۲ ۷-۶ - ۷ کو بوقت سوا آٹھ بجے صبح حضور نے ایوان محمود خدام الاحمدیہ مرکز یہ کی سالانہ تربیتی کلاس سے خطاب فرمایا۔اس کا مکمل متن پیش خدمت ہے۔(غیر مطبوعہ ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- اس کلاس کی مجموعی طور پر اچھی رپورٹ آ رہی تھی۔اور اس سے قبل آپ لوگوں میں بیٹھ کر باتیں کرنے کو دل چاہتا تھا۔مگر شروع میں مصروفیت کی وجہ سے اور پھر بیماری کے نتیجہ میں اس سے قبل آپ سے باتیں نہیں کر سکا۔یہ خوشی کی بات ہے کہ یہ کلاس اپنی کیفیت اور کمیت ہر دو لحاظ سے پہلی کلاسز سے زیادہ بہتر ہے۔زیادہ مجالس نے زیادہ تعداد میں نمائندگی کی ہے۔اور اپنے کام میں زیادہ توجہ دی ہے۔کیونکہ میں زیادہ گہرا مطالعہ آپ کے کام نہیں کر سکا۔اس لئے میں یہ نہیں کہ سکتا کہ جہاں تک کلاس کی تعلیم کا سوال ہے۔یعنی مرکز کے انتظام کا اور جو یہاں تقریریں ہوئیں۔ان کا معیار کیسا رہا۔آیا اس میں بھی پہلے سے ترقی ہوئی ہے یا نہیں۔قدم بہتری کی طرف ہے یا نہیں۔واللہ اعلم بالصواب۔خدا کرے کہ وہ بھی اپنی کیفیت کے لحاظ سے گذشتہ سالوں کی نسبت زیادہ بہتر ہو۔بچوں اور نو جوانوں پر زیادہ بوجھ پڑنے والا ہے آپ بچے اور نو جوان جو احمدیت کی طرف منسوب ہوتے اور اپنی زندگی کی اس عمر میں سے گذر رہے ہیں۔آپ کے کندھوں پر اس سے زیادہ بوجھ پڑنے والا ہے۔جتنا بوجھ کہ آج جو بڑی عمر کے خدام اور اراکین انصار اللہ پر سے یا یوں کہنا چاہیئے کہ جماعت کے جو بڑے ہیں جن کے کندھوں پر آج جماعت کا بوجھ ہے۔اس سے زیادہ بوجھ آپ کے اوپر پڑنے والا ہے۔اس لئے کہ اللہ کی رحمت احمدیت کی جدوجہد میں وسعت پیدا کر رہی ہے۔اور اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس جدوجہد کو زیادہ نمایاں طور پر کامیاب کر رہا ہے۔ایک تو آج گذشتہ کل کے مقابلہ میں خدا کے حضور زیادہ پیش کرنے کی توفیق دی گئی ہے۔اور دوسرے چونکہ خدا کے حضور جو بھی حقیر پیشکش تھی۔جب وہ قبول کر لی گئی تو اس کا نتیجہ بہر حال پہلے کے مقابلہ میں زیادہ نکلا۔جب تک ساری دنیا میں اسلام غالب نہیں آجاتا او محمد ﷺ کا جھنڈا ہر دل میں گاڑ نہیں دیا جاتا۔اس وقت تک کام میں یہ وسعت اور نتائج میں یہ برکت بڑھتی ہی چلی جائے گی۔اور پھر اس وقت اپنے مقام پر قائم رہنے کا سوال پیدا ہو جائے گا۔محبت میں ترقی بھی ہوگی۔گہرائی بھی پیدا ہو جائے گی۔تب بھی ظاہری آنکھ اس کو دیکھ نہیں سکے گی۔بھانپ نہیں سکے گی کیونکہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے کہ صلى الله