مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 306 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 306

فرموده ۱۹۷۱ء 306 دو مشعل راه جلد دوم پس جو ذمہ داری حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم پر ڈالی گئی جو ذمہ داری حضرت نوح علیہ السلام کی قوم پر ڈالی گئی جو ذمہ داری حضرت آدم علیہ السلام کی قوم پر ڈالی گئی، اس سے کہیں زیادہ ذمہ داری ہم پر ڈالی گئی ہے مگر ہمیں فرمایا تم گھبراؤ نہیں اپنی طاقت کے مطابق جب تم کوشش کر لو گے تو جو زیادہ سے زیادہ ضرورت کے مطابق تمہیں چاہئے وہ میں تمہیں دے دوں گا۔خود ہی دیا اور خود ہی انعام کے سامان پیدا کر دئے یعنی خیر امت بنادیا۔جہاں تیک محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پہنچی اور پہنچ سکتی ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت اور دوسرے انبیاء علیہم السلام کی امتیں تو اس کی گرد کو نہیں پہنچ سکتیں۔غرض بڑی عظیم بشارت دی گئی ہے اور ساتھ ہی بڑی عظیم ذمہ داریاں ڈالی گئی ہیں۔اب میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا آپ بھی میرے ساتھ شامل ہوں خدمت کے نقطۂ نگاہ سے جو عظیم ذمہ داریاں ہم پر ڈالی گئی ہیں ان کے پورا کرنے کی ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے توفیق ملے اور پھر اس کے بعد محض اپنے فضل سے نہ کہ ہماری کسی خوبی کے نتیجہ میں ، ہمیں اس نے جو بشارتیں دی ہیں ان کے مطابق انعام دے دے۔یہ کتنے فخر کی بات ہے کہ ہم یہ محسوس کریں کہ ہمارا سر محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں پڑا ہوا ہے۔اس سے زیادہ اور کوئی خوشی نہیں ہو سکتی۔خدا کرے کہ مجھے بھی اور آپ کو بھی وہ خوشی اور وہ لذت حاصل ہو۔آؤ اب کھڑے ہو کر عہد دہراتے ہیں اور پھر دعا کریں گے۔عہد دہرانے کے بعد حضور نے خدام کو ارشاد فرمایا کہ وہ بیٹھ جائیں۔پھر فرمایا دعا کرانے سے قبل ایک بات یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ موجودہ حالات میں خیال یہی تھا کہ خدام کی مجالس اس اجتماع میں شاید کم شامل ہوں نیز خدام بھی۔مگر جہاں تک مجالس کا تعلق ہے پچھلے سال ۵۵۲ مجالس میں سے ۴۱۵ مجالس اجتماع میں شامل ہوئی تھیں اور اس سال ۵۵۲ مجالس میں سے ۴۲۶ مجالس شامل ہوئی ہیں۔امجالس کی زیادتی ہوئی ہے۔الحمد للہ علی ذلک۔خدام کی تعداد کچھ کم ہے لیکن بڑی ہمت ہے جس تعداد میں وہ آئے ہیں کیونکہ آج کل کے حالات میں اتنے خدام کی توقع نہیں تھی۔آپ کا قدم پیچھے نہیں ہٹا آگے بڑھا ہے اور ہم خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائی۔اب آؤ دعا کر لیں۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہمیں اپنے پیار کا مستحق بنائے اور اس کے پیار میں زیادتی ہی زیادتی ہوتی چلی جائے۔اجتماعی دعا کے بعد حضور نے فرمایا۔جہاں بھی آپ ہوں۔جہاں بھی آپ واپس اپنے گھروں کو جائیں اللہ تعالیٰ کی حفاظت اور امان میں رہیں۔اس کے فرشتے آپ کی ہدایت کے لئے بھی موجود ہوں اور آپ کی حفاظت کیلئے بھی موجود ہوں۔یہ خطاب روزنامه الفضل ۲۷، ۲۸ جنوری اور ا ،۲ فروری ۱۹۷۲ ء کے شماروں میں قسط وار شائع ہوا)