مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 263
263 فرموده ۱۹۷۰ء د و مشعل راه جلد دوم دد اور اپنے رضا کے عطر سے معطر بنانا چاہتا ہے۔یہ ہمارا محاورہ ہے جس طرح بعض خوشبوئیں ایسی ہوتی ہیں کہ اگر آدمی لگالے تو اُن سے سیا را کمرہ مہک اُٹھتا ہے۔ابھی چند دن ہوئے میں ایک صاحب سے ملنے گیا تھا تو وہ کہنے لگے کہ ایسا عطر تو میں نے کبھی نہیں سونگھا ویسے تو وہ عطر لگانے کے شوقین ہیں لیکن شاید ان کو اچھا عطر ملا نہیں۔پس خوشبو تو دور دور تک پھیل جاتی ہے۔اگر آپ یہ یقین رکھیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کے ساتھ جو وعدے کئے گئے ہیں وہ ضرور پورے ہونگے تو آپ کی خوشبو آپ کے ماحول میں پھیلے گی اور ماحول کو گندی بد بو پر آپ اثر انداز نہیں ہوگی اور یہ ہمارا کام ہے کہ ہم آپ کو ہر وقت تھامتے رہیں۔اس لئے آپ آج یہاں سے یہ عہد کر کے اٹھیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہم سے جو وعدے کئے ہیں ہم کوشش کریں گے کہ ہم ان کے وارث بنیں۔اگر آپ اپنی تربیت کے لحاظ سے یا اپنی استعدادوں کی صحیح اور کامل نشو ونما کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے وارث بن جائیں تو پھر اللہ تعالیٰ کے فضل اس طرح دیکھیں گے جن کا آپ اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔ایک میں تنبیہ بھی آپ کو یہاں کر دوں کہ پہلے آپ تھے اور آپ کا مقابلہ کسی سے نہیں تھا۔اب دُنیا کی اقوام کے بچے آپ کے رقیب یا مد مقابل بن کر میدان میں آگئے ہیں اور وہ بڑے سنجیدہ ہیں۔مثلاً افریقن بچے اتنے سنجیدہ ہیں کہ اس کا دسواں حصہ سنجید گی مجھے اس وقت اس ہال میں نظر نہیں آرہی کوئی ہنس رہا ہے، اسے یہ خیال ہی نہیں ہے کہ مجھے سنجیدہ ہو کر بیٹھنا چاہیے لیکن وہاں ساڑھے تین سال کی ایک افریقن بچی ہمارے جلسے میں آئی اور تین گھنٹے کے جلسے میں اس نے اپنی لاتیں بھی نہیں ہلائیں بڑی سنجیدگی سے بیٹھی رہی حالانکہ وہ زبان بھی نہیں سمجھ رہی تھی اور اس کے پلے کچھ نہیں پڑرہا تھا لیکن اس کے پہلے ایک چیز بندھی ہوئی تھی اور وہ یہ تھی کہ میرا خاموشی کے ساتھ اس مجلس میں بیٹھنا اللہ تعالیٰ کی برکتوں کو جذب کرے گا۔ساڑھے تین سال کی بچی اور اس کا اس طرح خاموشی کے ساتھ بیٹھے رہنا اس بات کی علامت ہے کہ افریقین بچے بڑے سنجیدہ ہیں۔ایسے سنجیدہ بچوں کی نسل آپ کے مقابلے میں آگئی ہے۔آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی کوئی رشتہ داری نہیں۔اگر وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں سیکھنے اور سکھانے کے میدانوں میں آپ سے زیادہ آگے بڑھ جائیں گے تو وہ آپ سے زیادہ فضلوں کے وارث ہونگے۔پس وہ زمانہ تو گذر گیا جب برصغیر پاک و ہند میں یہ سمجھتا تھا یا اس برصغیر کے احمدی بچے یہ سمجھ سکتے تھے کہ صرف ہم ہیں ہمارے مقابلے میں کوئی نہیں ہے اللہ تعالیٰ کے جو بھی فضل نازل ہونگے ہم ان کے وارث ہوں گے۔اب دنیا کی دوسری اقوام کے احمدی بچے آپ کے مقابلے پر آگئے ہیں اور آپ کو للکارتے ہیں اور آپ کو چیلنج دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ صرف تمہارا حق نہیں ہے ہم تم سے آگے نکلیں گے اور اگر وہ تم سے دین کا زیادہ علم سیکھیں آپ سے زیادہ اپنے اخلاق درست کریں اور اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کی آپ سے زیادہ کوشش کریں تو اللہ تعالیٰ ان سے زیادہ راضی ہوگا اور ان پر اللہ تعالیٰ کے فضل زیادہ ہونگے وہ آپ کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی