مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 262 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 262

د مشعل راه جلد دوم فرموده ۱۹۷ء 262 سمجھ لیں کہ آنحضرت ﷺ کا زمانہ تین صدیوں تک ایسا زمانہ تھا جس میں اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ پر خاص طور پر بے شمار فضل کئے اور اب پھر ان فضلوں کی بارش جماعت احمدیہ پر ہوگی چنانچہ جماعت احمدیہ پر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی اتنی عظیم بارش ہے کہ جو ہمارے سب سے اچھے ذہن ہیں یا جو حساب میں بڑے ماہر ہیں مثلاً ڈاکٹر عبدالسلام ہیں وہ سائنس میں بڑے اونچے گئے ہیں اسی طرح حساب میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں بڑے ذہین بچے دیئے ہیں۔وہ پھر جتنا مرضی حساب لگا لیں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو نہیں گن سکتے۔فضل تو ایک طرح دنیوی رنگ میں دوسروں پر بھی ہیں اور بے شمار ہیں لیکن آنحضرت ﷺ کے طفیل روحانی طور پر ہم پر ہوتے ہیں وہ تو انسانی ذہن میں بھی نہیں آسکتے۔آپ بچے ہیں۔آپ کے بزرگ یا آپ کے والدین اگر وہ پرانے احمدی ہیں یا آپ کے دادا اور دادی جو بزرگ ہیں جنہیں ہم آپ کے بزرگ کہتے ہیں انہوں نے اپنی زندگیوں میں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو موسلا دھار بارش کے قطروں سے زیادہ نازل ہوتے دیکھا ہے۔لیکن آپ کو اس کا احساس نہیں نہ ہونا چاہئے کیونکہ اس چھوٹی عمر میں تو احساس پختہ نہیں ہوتا لیکن جو آپ کا حق ہے آپ کو یہ بات اچھی طرح سے ذہن نشین کر لینی چاہیئے کہ یہ آپ کا حق ہے آپ بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے اسی طرح وارث ہوں جس طرح جماعت احمدیہ کے وفادار حضرت محمد اللہ کے فدائی اس زمانے میں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث ہوتے رہے ہیں اور ہورہے ہیں یہ آپ کا حق ہے۔یہ حق جو ہے۔ایک تو آپ کو اس پر پختہ یقین ہونا چاہیئے دوسرے آپ کو یہ بات سمجھ لینی چاہیئے کہ جو چیز آپ کو اس حق سے محروم کرنا چاہتی ہے اس سے آپ کو محفوظ رکھنا آپ کے خاندان کا اور جماعت احمدیہ کا فرض ہے۔اگر ہم اس بات میں کامیاب ہو جائیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو روحانی طاقتیں اور اخلاقی استعداد میں آپ کو دی ہیں ان کی نشو نما کمال تک پہنچ جائے اور آپ کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت ذاتی پیدا ہو جائے اور حضرت محمد رسول اللہ علے کے لئے آپ کے دل میں عشق پیدا ہو جائے اور حضرت مسیح موعود اور مہدی معہود علیہ السلام سے آپ کا عاشقانہ تعلق قائم ہو جائے اگر آپ کے قوئی آپ کی استعداد میں اس طرح نشو و نما پاتی ہوئی اپنے کمال کو پہنچ جائیں تو میں آپ کو پورے وثوق کے ساتھ بتاتا ہوں کہ یقینا آپ بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے اسی طرح وارث ہونگے جس طرح آپ سے پہلے بزرگ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث ہوتے رہے۔یہ ماحول جس میں آپ رہ رہے ہیں۔اس میں تو لوگ خدا کو نہ اس طرح پہچانتے ہیں نہ اس کے فضلوں کو جانتے ہیں جس طرح خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہم اس کی صفات کی معرفت رکھیں اور اس کو پہچانیں اور اس کے فضلوں کو دیکھیں۔اس واسطے سے ماحول کے بداثرات اور گندی باتیں آپ پر اثر انداز ہوتی رہتی ہیں اور ان سے آپ کو محفوظ رکھنا یہ جماعت کا اور خدام الاحمدیہ کا اور اطفال الاحمدیہ کا اور انصار جو بزرگ ہیں غرض ساری تنظیموں کا یہ کام ہے۔آپ اگر یہ یقین رکھیں اور کوئی وجہ نہیں عقلا کہ آپ یہ یقین نہ رکھیں کہ اللہ تعالیٰ آپ سے پیار کرنا چاہتا ہے