مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 264
تل راه جلد دوم د دمشعل را فرموده ۱۹۷ء 264 نعمتوں کے زیادہ وارث ہونگے لیکن انسان کی فطرت ہی ہے کہ جب اسے چیلنج کیا جائے للکارا جائے مقابلے پر بلایا جائے تو اس کی طبیعت میں ایک جوش پیدا ہوتا ہے۔یہ جوش آپ کے اندر پیدا ہونا چاہیئے۔بعض دفعہ ایک چھوٹی عمر کے بچے کو جسے جسمانی طاقت بھی نہیں ہوتی اسے بڑی عمر کا طاقتور بچہ للکارتا ہے اور کہتا ہے میں تجھے تھپڑ ماروں گا۔کرے گا مجھ سے کشتی۔اس قسم کی بات کہتا ہے تو وہ چھوٹا ہونے کے باوجود اس بڑے پر حملہ کر دیتا ہے خواہ نتیجہ کچھ ہو۔یہ انسان کی فطرت ہے۔یہاں بھی ممکن ہے ایسا واقعہ ہوا ہو۔ایک واقعہ مجھے یاد آ گیا وہ بچوں کا تو نہیں نو جوانوں کا واقعہ ہے۔ایک دفعہ کسی خادم کو دوسرے نے للکارا اور جو للکار نے والا تھا یعنی چیلنج کرنے والا تھا وہ بہت طاقتور اور پہلوان ٹائپ کا تھا اور جس سے اس نے کہا تھا کہ آمیرا مقابلہ کر وہ بڑا منحنی اور کمزور جسم کا مالک تھا لیکن جس وقت اسے یہ چیلنج ملا تو اس نے چھلانگ لگائی اور اس جوش کی وجہ سے جو اس کے اندر پیدا ہو گیا تھا اس نے اپنے سے زیادہ طاقتور خادم کوگر الیا اور اس کے سینے پر چڑھ کر بیٹھ گیا اور اسے شرمندہ کر دیا۔پس یہ تو فطرت کا تقاضا ہے۔یہ پینج آپ کو مل چکا ہے۔پہلے آپ کو چیلنج نہیں ملا تھا اب تو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ آئے ہیں۔منہ سے تو وہ کچھ نہیں کہتے لیکن زبان حال سے یہ کہتے ہیں کہ ہم نے پاکستانی بچوں سے آگے نکل جانا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا زیادہ وارث بننا ہے۔اس لئے آپ میں سے ہر ایک دل میں یہ جوش پیدا ہونا چاہیئے کہ ہم تم سے زیادہ قربانیاں دیں گے اور آگے نہیں نکلنے دیں گے۔جرات یعنی اچھی باتوں میں آگے نکلنے کی تعلیم قرآن کریم نے ہمیں دی ہے۔اور اس کے مطابق ہمارا عمل ہونا چاہیئے۔اس واسطے بڑی متانت اور سنجیدگی کے ساتھ اپنی زندگیوں کو اس رنگ میں بناؤ کہ اللہ تعالیٰ کے وہ فضل جواحمدی بچوں پر ہونے چاہیں ان فضلوں کو حاصل کرنے میں دوسرے آپ سے آگے نہ نکل جائیں۔ہماری جماعت کے نظام کا یہ فرض ہے کہ وہ آپ کو گندے ماحول کے بداثرات سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرے اور آپ کے دلوں میں اور آپ کے سینے میں یہ بات شیخ کی طرح گاڑ دی جائے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے بچے ہیں۔احمدیت کے بچے اللہ تعالیٰ کے بچے ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ فرمایا ہے اور اعلان کیا ہے کہ اگر یہ بچے میرے بچے بہنیں رہیں تو ان کے اوپر اتنے فضل نازل کروں گا کہ جتنے فضل میں نے پہلی صدی کے بچوں پر نازل کئے تھے پھر دوسری اور پھر تیسری صدی میں شاید انیس بیس کے فرق کے ساتھ لیکن وہ بھی ان کی اپنی غلطی تھی وہ چاہتے تو بالکل ویسے ہی ہو جاتے لیکن آپ وہ غلطی نہ کریں۔خلاصہ یہ کہ آپ احمدی بچے ہیں۔آپ سے اللہ تعالیٰ کے بڑے وعدے ہیں۔اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ آپ کی ساری استعدادوں کی صحیح اور کامل نشو و نما ہو خصوصاً اخلاقی اور روحانی قومی کی۔اور اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ اگر تم میرے کہنے کے مطابق اور بتائے ہوئے طریق پر اپنی قوتوں اور استعدادوں کی نشو ونما کرو گے اور میرا پیار اپنے دل میں پیدا کرو گے اور جو تمہارے ذریعہ سے یہی کام لینا چاہتا ہوں وہ بشاشت کے ساتھ کروگے اور میری راہ