مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 226
د د مشعل راه جلد دوم فرموده۰ ۱۹۷ء 226 طریق سے جائزہ لینا چاہیئے۔ہمیں اگر موقع ملے تو ایسے علوم منتخب کرنے چاہئیں جو انسان سے یہ ہیت مجموعی واقفیت پیدا کرنے والے ہوں۔یعنی جن سے انسان کی صلاحیتوں، دلچسپیوں امنگوں ذمہ داریوں اور فرائض وغیرہ سے آگاہی حاصل ہوتی ہو حتی کہ ہمیں ایسے علوم اور کتب کے مطالعہ کو بھی ترجیح دینی چاہیئے جو ہم میں اگلے جہاں کی زندگی کے متعلق فکرمندی پیدا کرنے والے ہوں۔اگر ہم حصول علم کی جدوجہد کے متعلق اپنے نظریہ اور رویہ کی اس طرح اصلاح کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے تو پھر ہمیں بہت جلد یہ احساس ہو جائے گا کہ اس دنیا کی زندگی حیاۃ الآخرۃ کے مقابلہ میں کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتی حتی کہ ان میں تقابل کے لئے پہاڑ اور رائی کی مثال بھی یکسر نا کافی ہے۔اس حقیقت سے آگاہ ہونے کے بعد وقتی مفادات باہمی جھگڑوں نفرت و حقارت اور ایک دوسرے کو گرانے کے متعلق ہمارے نقطۂ نظر میں ایک انقلاب آئے بغیر نہیں رہتا۔اس ایمان ویقین کو اپنانے سے دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے والے نو جوانوں کی حصول علم کی جدوجہد میں ایک نئی کیفیت ایک نئی وسعت اور ایک نئی گہرائی و گیرائی پیدا ہوسکتی ہے۔ابھی ہم اس حقیقت سے پوری طرح باخبر نہیں ہیں کہ اس دنیا کی تمام اشیاء اپنے اندر غیر محدود خواص اور غیر محدود قو تیں رکھتی ہیں۔اگر علم کی اور خواص الاشیاء معلوم کرنے کی دوڑ میں ہم کسی نہ کسی وجہ سے پیچھے رہ گئے ہیں تو پھر ہمیں محض اس بناء پر ہمت ہارنے کی ضرورت نہیں۔ہمیں ہرگز بھی یہ خیال نہیں کرنا چاہیئے کہ ہراہم بات دریافت کی جاچکی ہے اور اب کوئی ایسی اہم بات باقی نہیں ہے جسے ہم دریافت کریں یا کر سکیں۔ایک حقیقی سائنسدان جس نے نیچر کی لامحدود وسعتوں اور ان لا محدود خواص کا جو نیچر کی جملہ اشیاء میں ودیعت کئے گئے ہیں کچھ بھی مطالعہ کیا ہے نہ کبھی ایسی بات سوچے گا اور نہ کبھی اسے زبان پر لائے گا۔سائنس کے صرف کمتر اور گھٹیا درجہ کے طلباء ہی ایسی بات سوچ سکتے ہیں اور زبان پر لا سکتے ہیں۔کم تر درجہ کے ایسے سائنسدانوں کو جاننا اور یا درکھنا چاہیئے کہ ہمارے خالق و مالک خدا کی بنائی ہوئی کائنات اپنی وسعت کے لحاظ سے غیر محدود ہے اور اس کی پیدا کردہ جملہ اشیاء کے خواص اور طاقتوں کی بھی کوئی انتہا نہیں ہے اور یہ سب کچھ خدا تعالیٰ کی غیر محدود طاقتوں اور صفات کے ایک جلوہ کی حیثیت رکھتا ہے۔خواص الاشیاء دریافت کرنے کا سفر کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔نوجوان طلباء کے نام ضروری پیغام لہذا میرا پیغام یہ ہے کہ اپنی پوری ہمت اور پوری طاقت کو مجتمع کر کے علمی تحقیق میں لگ جاؤ۔ماضی میں جو کچھ بھی دریافتیں ہو چکی ہیں تمہارے لئے ان سے کہیں بڑھ کر دریافت کرنے کا ابھی موقع ہے اور ہمیشہ رہے گا۔تمہارے لیے علمی تحقیق کے میدان میں اپنے جو ہر دکھانے کے لئے بہت کچھ محفوظ ہے بلکہ اتنا کچھ محفوظ ہے کہ تم اسے تصور میں بھی نہیں لا سکتے۔دعا کی اہمیت اور اللہ تعالیٰ کی غیر محدود صفات اور قدرتوں سے آگاہ ہونے کے نتیجہ میں اس وقت جو علم تم حاصل کرو گے وہ نہ صرف پہلے کی نسبت زیادہ وسیع اور عمیق ہوگا بلکہ وہ زیادہ بامعنی اور