مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 227 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 227

227 فرموده ۱۹۷۰ء دو مشعل راه جلد دوم دد با مقصد ہوگا اور تخلیق کائنات کے عظیم مقصد سے زیادہ مطابقت اور ہم آہنگی رکھنے والا ہوگا اور اس طرح ہمارے خالق و مالک ہمارے آقا اور ہمارے معبود حقیقی کی رضا اور خوشنودی پر منتج ہو کر صحیح معنوں میں فائز المرام کرنے والا ہوگا۔پس علمی ترقی کی جدوجہد میں دعا کی اہمیت اور اس کی برکات سے متعلق میں نے جو کچھ بیان کیا ہے اس پر سنجیدگی سے غور کرو اور یاد رکھو کہ دعا اس وقت تک اپنے کمال کو نہیں پہنچتی جب تک کہ خدا تعالیٰ کی جو آسمانوں اور زمین اور ان میں موجود ہر شے کا خالق و مالک اور پرورش کرنے والا ہے، صحیح معرفت حاصل نہ ہو۔میری یہی نصیحت ہے کہ اس کی طرف جھکو خواہ ابھی تمہیں کامل معرفت حاصل نہ ہوئی ہو۔وہ تمہاری طرف متوجہ ہوگا اور تمہاری دعا کا جواب دے گا اور ان تمام علمی کاوشوں میں جو تم اس کی خاطر اور اس کی مخلوق کی خاطر اٹھاؤ گے تمہارا ہادی اور تمہارا راہنما بن جائے گا۔یہ ایک ایسا طریق عمل ہے جو حصول علم کی جدوجہد کو حقیقی کامیابی سے ہمکنار کرنے اور ایسے مثمر ثمرات بنانے کے لحاظ سے بہت موزوں اور مناسب ند ہی تعلیم اور اس کی بے انداز اہمیت ایک اور کام بھی ہے جو آپ لوگوں کو اس ضمن میں کرنا چاہیئے اور وہ یہ ہے کہ دوسرے علوم کو یکسر نظر انداز کر کے کسی ایک علم میں خصوصی مہارت پیدا کرنے کی خاطر اس پر ضرورت سے زیادہ توجہ مرکوز کرنے کے طریق اور اس کے غیر صحت مندانہ اثر کو زائل کرنے کی آپ کوشش کریں۔اس قسم کی مہارت جدید علم اور جدید تعلیم کی ایک ناگزیرو ناگوار خصوصیت بن کر رہ گئی ہے۔میں جانتا ہوں کہ اس قسم کی مہارت ایک حد تک ناگزیر بھی ہوتی ہے اور مفید بھی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر شعبہ علم میں اس کی بڑھتی ہوئی وسعت کے پیش نظر بہت کچھ جاننا اور اس پر عبور حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔اور پھر علم کے نئے نئے شعبے نکلتے چلے آتے ہیں نتیجتاً کوئی شخص بھی علم کے ایک یا دو شعبوں سے زیادہ شعبوں کی طرف پوری طرح متوجہ نہیں ہو سکتا۔پھر بھی میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ تعلیم اور تحقیق کے میدان میں موجودہ صورت حال کی اصلاح کے لئے کچھ نہ کچھ کیا جاسکتا ہے اور کرنا چاہیئے تا کہ انسان یک طرفہ علوم میں ہی گم ہو کر نہ رہ جائے۔ایک مناسب نقطہ نظر اور طرز عمل اختیار کرنے سے بہت کچھ اصلاح کی صورت پیدا ہو سکتی ہے۔اس سلسلہ میں میں جس نقطہ نظر اور طرز عمل کا حامی ہوں وہ ایک ایسا نقطہ نظر اور طرز عمل ہے جو آپ کے اندر اپنے شعبہ علم کے علاوہ دیگر شعبوں میں بھی تیر انگیز دلچسپی کو ابھارنے والا ہے۔یہ ایک ایسا نقطہ نظر اور طرزعمل ہے جو بالآ خر آپ میں یہ صلاحیت پیدا کر دیتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق اور پوری کی پوری کا ئنات کو بمع اس کے حسن، اس کے جاہ و جلال اور اس کی مقصدیت کے یہ ہیت مجموعی دیکھیں اور اسی اعتبار سے اس پر غور کریں۔اس نقطہ نظر اور اس طرز عمل کو ہم آزادانہ ماحول میں مذہبی تعلیم کو تمام سطحوں اور تمام درجوں میں رائج کر کے فروغ دے سکتے ہیں۔مذہبی تعلیم کا جدید نظام تعلیم میں از خود در آنے والی اس نا گوار صورت حال