مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 145 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 145

145 فرموده ۱۹۶۹ء دومشعل راه جلد دوم ہیں اور اللہ تعالیٰ بھی ان سے بڑے پیار کا سلوک کرتا ہے۔خدا کے پیار کا اظہار اور اسی طرح باہر بھی بڑی کثرت سے ایسے لوگ پائے جاتے ہیں حتی کہ حبشی جن کے ہونٹ موٹے موٹے اور لٹکے ہوئے اور رنگ کالا ہوتا ہے اور کئی سو سال تک ان مہذب کہلانے والی قوموں نے ان سے نفرت کی اور ان سے بڑی حقارت کا اظہار کیا۔ان پر ظلم کئے اور انہیں اتنا دبایا کہ ان کے اندر Complexes ( یعنی احساس کمتری) پیدا کر دیئے۔غرض ہزار قسم کی خرابیاں تھیں جو ان کے اندر پیدا کر دی گئی تھیں۔اب جب ہمارے مشنز وہاں قائم ہوئے تو یہ خیال کر کے بڑا ہی لطف آتا ہے کہ وہی لوگ جو دنیا کے دھتکارے ہوئے تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں سینے سے لگایا ہوا ہے اور انہیں پیش خبریاں دی جاتی ہیں اور یہ پیش خبریاں ان کے اپنے متعلق بھی ہوتی ہیں اور غیروں کے متعلق بھی ہوتی ہیں چنانچہ گیمبیا کے ایک Cook ( یعنی باورچی) کو اس ملک کے Prime Minister ( پرائم منسٹر کے متعلق ایک خواب میں ایک بات بتائی گئی جو پرائم منسٹر کی ایک راز والی بات تھی اور وہ بڑا پریشان تھا۔چنانچہ اس احمدی دوست نے ہمارے مبلغ سے اس خواب کا ذکر کیا۔کہ اس طرح میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ ہمارا پرائم منسٹر ایک دکھ اور تکلیف میں مبتلا ہے اور اس نے اپنے ہاتھ سے یہ مصیبت پیدا کی ہے حالانکہ اس احمدی دوست کو اس بات کا سرے سے علم ہی نہیں تھا۔یہ تو اس پرائم منسٹر کا اپنا راز تھا مگر جب یہ خواب پوری ہو گئی اور ہمارے مبلغ نے مجھے لکھا تو میں نے اس کا اظہار ایک غیر از جماعت دوست سے کیا تو وہ کہنے لگا کہ اللہ تعالی کو کیا ضرورت پڑی تھی کہ ایک باورچی کو یہ راز بتادیتا یعنی یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے پیار کی حقیقت کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔مجھے اس شخص پر بڑا رحم آیا۔میں نے دل میں سوچا اب میں اسے کیا سمجھاؤں۔پس یہ پیار کے تعلق کا ایک حسین مظاہرہ ہے ناں ! اللہ تعالیٰ نے ہمارے اس افریقی دوست کو یہ خواب دکھا کر یہ سمجھایا کہ دنیا تمہیں ایک حقیر باور چی سمجھتی ہے میں تمہیں ایک پیارا بندہ سمجھتا ہوں۔اللہ تعالیٰ کا پیار بلا رنگ ونسل ہوتا ہے پس اس کا یہی مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کا پیار بلا امتیاز رنگ ونسل یا ملک وقوم کے ہوتا ہے۔ضرورت صرف اس بات کی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے قرب کا تعلق پیدا کیا جائے۔اور ایسے لوگ وہاں بھی ہیں اور یہاں بھی ہیں۔پس اگر آپ بھی اللہ تعالیٰ سے یہی تعلق قائم کریں گے اور آپ کی زندگی میں بھی اللہ تعالیٰ کے پیار کے جلوے نظر آنے لگیں گے تو پھر ہر کوئی مجبور ہو جائے گا کہ وہ آپ سے کہے کہ میرے لئے دعا کرو۔دوسروں پر یہ اثر ہونا چاہیے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے پیار کرنے والے اور اسی سے دعائیں کرنے والے ہیں اور جس حد تک اللہ تعالیٰ