مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 144
فرموده ۱۹۶۹ء 144 د دمشعل را ل راه جلد دوم اس ترجمہ کرنے پر اپنا وقت بھی لگایا اور پیسے بھی خرچ کئے ٹائپ پر۔کاغذ پر۔علاوہ از میں ان کا تو یہ حال ہے کہ اگر کوئی عیسائی اسلام کے متعلق فون پر کوئی سوال کر دے تو یہ اسے سمجھانے کے لئے لمبا جواب دیتے ہیں اور اسے اس وقت تک چھوڑتے نہیں جب تک اس کی تسلی نہ ہو جائے۔وہاں تین منٹ کے بعد فون بند نہیں کر دیتے اگر کوئی چاہے تو آدھے گھنٹے تک فون پر بات کر سکتا ہے۔اس کا بل آ جاتا ہے چنانچہ ایک دفعہ ایک مہینے کا ایک ہزار روپے کا فون کا بل آ گیا اور ان کی تنخواہ بھی کم و بیش اتنی ہی ہے لیکن جب ہمارے مبلغ کو اس کا پتہ لگا تو انہیں عبد السلام میڈیسن صاحب کو اس بات پر رضامند کرنے کے لئے بڑی مشکل پیش آئی کہ یہ پہل اس کی رائلٹی والی رقم سے ادا کر دیا جائے۔کیونکہ یہ پل بھی تو آخر تبلیغ کرنے کی وجہ سے آیا ہے اسلئے پل کی رقم اس میں سے ادا کر دیتے ہیں۔لیکن پھر بھی وہ مانتا نہیں تھا بڑی مشکل سے جا کر مانا۔پس اس قسم کے لوگ ہیں جن سے آپ نے بہر حال آگے جانا ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کی کوئی رشتہ داری تو پاکستان کے مکینوں کے ساتھ نہیں کہ وہ ضرور آپ ہی کو دین کی قیادت دیئے رکھے گا۔اگر وہ قومیں اس کثرت کے ساتھ آگے بڑھ گئیں تو پھر قیادت ان کے ہاتھ میں چلی جائے گی۔اور جانی چاہیے کیونکہ وہ اس بات کے لئے Deserve (ڈیزرو) کریں گے۔ہمیں جب اللہ تعالیٰ نے یہ کہا ہے کہ جو آدمی اہل ہے اس کے سپر د کام کرو۔پس اللہ تعالیٰ کا جو حکم ہے اس کا عمل بھی اسی کے مطابق ہے وہ قیادت دین اُنہی کے سپر د کرے گا جو اس کے اہل بن جائیں گے۔پھر اس لحاظ سے بھی یہ نہیں کہ ہمیں ان پر شکوہ ہے۔ہمیں تو بہت خوشی ہوتی ہے۔لیکن ایک نعمت اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کی ہے اسے کھونا کیوں ہے۔قرب الہی ایک راز ہوتا ہے پس دوسری چیز آسمانی نشانات اور تائیدات کی دی گئی ہے اور جو آدمی اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرتا ہے اس کی شاید سویا ہزار میں سے کوئی ایک بات باہر آ جائے تو آ جائے اور لوگوں کو اس کا پتہ لگ جائے ورنہ یہ تو اس کا راز ہوتا ہے جسے ظاہر کرتے ہوئے وہ شرماتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ فرمایا ہے اور یہ ہمیں سمجھانے کے لئے ہے کہ خدا تعالیٰ کا بندہ اس تعلق کو اس طرح چھپاتا ہے جس طرح ایک خاوند اپنی بیوی کے تعلقات کو چھپارہا ہوتا ہے۔لیکن بعض چیزیں ظاہر ہو جاتی ہیں یا ظاہر کرنی پڑتی ہیں۔مثلاً جماعتی کاموں یا جماعتی حالات سے تعلق رکھنے والی باتیں ظاہر کرنی پڑتی ہیں۔جب کوئی احمدی اس قسم کی خواب دیکھتا ہے یا اُسے کسی اور رنگ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے علم دیا جاتا ہے تو وہ مجھے لکھتا ہے یہ اس کا فرض ہے لیکن یہ نہیں کہ وہ مجھے ہر چیز لکھنا شروع کر دے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق قرب بہر حال ظاہر نہیں کرنا پڑتا۔میرے علم میں بڑی عمر کے بیسیوں سینکڑوں نوجوان ایسے ہیں جن ک اللہ تعالیٰ کے ساتھ بڑے قرب کا تعلق ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے بڑے فدائی