مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 146 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 146

د دمشعل را ل راه جلد دوم نے انہیں تو فیق دی ہے الہی احکام پر کار بند رہنے والے ہیں۔نیک نمونے کی ضرورت ہے فرموده ۱۹۶۹ء 146 پس اپنا نمونہ نیک بنالیں اللہ تعالیٰ خود ہی ایسی تحریک کرتا ہے کہ لوگ خود بخود کھنچے چلے آتے ہیں۔میرے پاس عیسائیوں کے بیسیوں خطوط آ جاتے ہیں اور لکھا ہوتا ہے کہ فلاں پریشانی ہے۔ہمیں اچانک پتہ لگا۔کوئی احمدی مل گیا اور اس نے کہا کہ دعا کے لئے خط لکھو اس لئے خط لکھ رہے ہیں دعا کریں چنانچہ ان میں سے اللہ تعالیٰ بہت ساروں پر اپنا فضل کرتا ہے بعض ہندوستانی سکھ اور ہندو بھی افریقہ میں آباد ہیں ان میں سے بعض کے دعا کے لئے خط آ جاتے ہیں۔ابھی حال ہی میں ایک سکھ نے افریقہ سے خط لکھا تھا کہ وہ بڑا پریشان ہے۔دعا کریں چنانچہ کچھ دن ہوئے اس کا خط آیا ہے کہ آپ کی دعا کی برکت سے میری پریشانیاں دور ہوگئی ہیں۔پس یہ اللہ تعالیٰ کا کتنا فضل ہے کہ ایک آدمی جو احمدی نہیں بلکہ مسلمان بھی نہیں۔وہ اتنا متاثر ہے اور جماعت سے بڑا تعلق بھی رکھتا ہے۔غرض یہ چیز بڑا اثر کرنے والی ہے کہ ایک بالکل عاجز انسان جو مستقبل چاہے ایک منٹ بعد کا ہو چاہے ایک سو سال بعد کا ہو اس پر کوئی تصرف نہیں رکھتا یعنی آپ میں سے کوئی شخص اپنے ہوش و حواس میں یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ میں آج شام کو ضرور یہ کام کروں گا۔کیا پتہ ہے شام سے پہلے موٹر کے حادثہ میں جان ہی نکل جائے یا اللہ تعالیٰ بھلوا دے۔اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کے نظارے نظر آتے ہیں جو آدمی بہت کہیں مارتا ہے کہ میں یوں کروں گا اس کے ذہن پر ایک ایسا ہی تصرف ہوتا ہے وہ سرے سے اس کام ہی کو بھول جاتا ہے جس کے متعلق وہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ میں اسے ضرور کروں گا۔پس ایسی صورت میں فرمایا ہے کہ مستقبل میں کام کرنے کے اظہار کے ساتھ انشاء اللہ کہ لیا کرو اور اس میں یہی یا در بانی کر دی گئی ہے کہ ہمارا نہ تو مستقبل پر کوئی تصرف ہے اور نہ ہی حال پر۔لیکن مستقبل تو بالکل اندھیرا ہے ناں ! جہاں تک مستقبل کا سوال ہے ہمارے سامنے اتنی موٹی دیوار ہے کہ دیوار چین بھی شاید اتنی موٹی نہ ہوگی۔کچھ بھی پتہ نہیں۔ہم اس میں کوئی شگاف بھی نہیں کر سکتے لیکن وہ علام الغیوب خدا جس کے سامنے مستقبل، حال اور ماضی ایک جیسے عیاں اور سامنے ہیں اور اس کے علم نے ہر ایک چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے۔اس کے ساتھ انسان کا تعلق ہو تو اللہ تعالیٰ اسے زمان و مکان سے تعلق رکھنے والی باتیں بھی بتا دیتا ہے۔اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو بہت ساری تقدیریں بدل بھی جاتی ہیں۔دعا کی حقیقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حقیقت دعا پر بہت کچھ لکھا ہے اور اس کے فلسفہ اور حکمت پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔آپ نے دعا کی ایک حکمت اور اس کی ایک خصوصیت یہ بتائی ہے کہ دعا کے سلسلہ میں