مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 491 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 491

491 فرموده ۱۹۷۸ء د و مشعل راه جلد دوم دد قیامت تک کھلا ہے یہ ہمارا ایمان ہے۔میں اپنے ایمان کے متعلق باتیں کر رہا ہوں۔یہ احمدیوں کا ایمان ہے کہ یہ دروازہ بھی بند نہیں ہوسکتا اسی لئے میں نے کئی جگہ احمدیوں سے پوچھا کہ بتاؤ تم نے کچی خوا نہیں دیکھیں تو مجھے کوئی ایسا احمدی نہیں ملایا احمدیوں کا کوئی ایسا گھرانہ نہیں پایا جس نے کسی نہ کسی رنگ میں خدا تعالیٰ کی محبت کو حاصل نہ کیا ہو اور اُس کے پیار کا مشاہدہ نہ کیا ہو۔پس یہ ہے ہمارا خدا جو اپنی ذات میں اکیلا ہے جس نے نہ کسی کو جنا اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور کوئی اس کا کفو نہیں۔وہ جی ہے وہ قیوم ہے نہ اُسے اونگھ آتی ہے اور نہ نیند۔وہ بصیر ہے وہ سمیع ہے وہ علیم ہے وہ خبیر ہے وہ قدوس ہے وہ عزیز ہے وہ خالق ہے وہ مالک ہے وہ حاکم ہے اس معنی میں کہ الحکم للہ۔اس دنیا میں حکم اسی کا چلتا ہے۔وہ متصرف بالا رادہ ہے۔یہودیوں کے بعض فرقے کہتے ہیں خدا نے دنیا کو پیدا کیا اور علیحدہ ہوکر بیٹھ گیا۔وہ کہتے ہیں خدا ایک عظیم ہستی ہے اور انسان ایک عاجز بندہ پھر امن کے ساتھ تعلق کیوں رکھے۔ہمدا خدا ایسا خدا نہیں ہے۔تعلق کیوں رکھنے کا سوال تو شاید ٹھیک ہوسکتا ہے لیکن اس نے جواب دیا اور کہا ہے کہ میں تعلق رکھتا ہوں۔یہ اُس کی شان ہے۔اس لئے جیسا کہ یہودیوں کے بعض فرقے کہتے ہیں وہ Impersonal God یعنی مخلوق سے لاتعلق خدا نہیں ہے بلکہ personel God یعنی مخلوق سے ذاتی تعلق رکھنے والا ہمارا خدا ہے۔مثلاً جب مجھے کوئی تکلیف پہنچتی ہے یا آپ کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے یا کوئی ضرورت آپڑتی ہے تو ہم جانتے ہیں کہ ہمارے لئے صرف ایک ہی در کھلا ہے اور وہ ہمارے پیارے رب کریم کا در ہے۔پس ہمیں کسی اور کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں ہے ہم ہر آن اس خدا کے حضور جھکتے ہیں جو بڑی شان کا مالک ہے، تمام صفات حسنہ سے متصف ہے ہر قسم کے عیوب اور کمزوریوں سے مبرہ اور ہر قسم کے شرک سے منزہ ہے۔خدا بولتا ہے دعاؤں کو سنتا ہے اور جب پیار کرنے پر آتا ہے تو اپنے پیارے بندوں کے لئے ایک دنیا کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے اے خدا یہ تو ٹھیک ہے کہ تو نے یہ کہا ہے کہ جو تیرا ہو جائے ہر دو جہان اس کے ہو جاتے ہیں لیکن جہاں تک ہمارے دل کی کیفیت کا سوال ہے وہ تو یہ ہے کہ جسے تو مل جائے اُس نے ہر دو جہان کو لے کر کیا کرنا ہے جب تیرا پیارل گیا تو گویا سب کچھیل گیا۔آنحضرت م تخلیق کائنات کے اصل سبب پس ہمارا پہلا بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ ہم خدائے واحد و یگانہ کے پرستار ہیں۔ہم اسی کی عبادت کرتے ہیں۔ہم اس کے عبد ہیں اور عبودیت کے تقاضے پورے کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔عبودیت کا ایک تقاضا یہ ہے کہ قرآن کریم نے ہمیں کہا ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات کا مظہر بننے کی کوشش کریں اور چونکہ یہ ایک ایسا فقرہ تھا جسے سمجھنا مشکل تھا۔اس لئے ہمیں یہ بتایا گیا کہ محمد رسول اللہ ہے خدا تعالیٰ کی صفات کے مظہر اتم ہیں اور یہ ہمارا