مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 490 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 490

د و مشعل راه جلد دوم فرموده ۱۹۷۸ء صحبت لوگوں کو اوقات خاصہ بدیہی طور پر مشہود اور محسوس ہوتی ہے بلکہ اگر محبان صادق اس جوش محبت کو کسی حیلہ اور تدبیر سے پوشیدہ رکھنا بھی چاہیں تو یہ ان کے لئے غیر ممکن ہو جاتا ہے جیسے عشاق مجازی کے لئے بھی یہ بات غیر ممکن ہے کہ وہ اپنے محبوب کی محبت کو جس کے دیکھنے کے لئے دن رات مرتے ہیں اپنے رفیقوں اور ہم صحبتوں سے چھپائے رکھیں بلکہ وہ عشق جو ان کے کلام اور اُن کی صورت اور اُن کی آنکھ اور اُن کی وضع اور اُن کی فطرت میں گھس گیا ہے۔اور اُن کے بال بال سے مترشح ہورہا ہے وہ ان کے چھپانے سے ہرگز چھپ ہی نہیں سکتا اور ہزار چھپائیں کوئی نہ کوئی نشان اس کا نمودار ہو جاتا ہے اور سب سے بزرگ تر اُن کے صدق قدم کا نشان یہ ہے کہ وہ اپنے محبوب حقیقی کو ہر یک چیز پر اختیار کر لیتے ہیں اور اگر آلام اس کی طرف سے پہنچیں تو محبت ذاتی کے غلبہ سے برنگ انعام ان کو مشاہدہ کرتے ہیں اور عذاب کو شربت عذب کی طرح سمجھتے ہیں۔کسی تلوار کی تیز دھار اُن میں اور اُن کے محبوب میں جدائی نہیں ڈال سکتی اور کوئی بلیہ عظمی اُن کو اپنے اس پیارے کی یادداشت سے روک نہیں سکتی۔اُسی کو اپنی جان سمجھتے ہیں اور اُسی کی محبت میں لذات پاتے اور اسی کی ہستی کو ہستی خیال کرتے ہیں اور اسی کے ذکر کو اپنی زندگی کا ماحصل قرار دیتے ہیں۔اگر چاہتے ہیں تو اسی کو اگر آرام پاتے ہیں تو اسی سے۔تمام عالم میں اُسی کو رکھتے ہیں۔اور اسی کے ہورہتے ہیں۔اُسی کے لئے جیتے ہیں اُسی کے لئے مرتے ہیں۔عالم میں رہ کر پھر بے عالم ہیں اور با خود ہو کر پھر بے خود ہیں۔نہ عزت سے کام رکھتے ہیں نہ نام سے نہ اپنی جان سے نہ اپنے آرام سے بلکہ سب کچھ ایک کے لئے کھو بیٹھتے ہیں اور ایک کو پانے کے لئے سب کچھ دے ڈالتے ہی۔لا یدرک آتش سے جلتے جاتے ہیں اور کچھ بیان نہیں کر سکتے کہ کیوں جلتے ہیں اور تفہیم اور تفہیم سے صم بکم ہوتے ہیں اور ہر یک مصیبت اور ہر یک رسوائی کے سہنے کو تیار رہتے ہیں اور اس سے لذت پاتے ہیں“۔490 (براہین احمد یه صفحه ۵۳۹ صفحه ۵۴۰ حاشیه در حاشیہ نمبر ۳ بحوالہ روحانی خزائن نمبرا جلداول) ایک مسلمان جو قر آنی تعلیم پر عمل کرتا ہے اور اس کو سمجھ کر اور اللہ تعالیٰ کی محبت میں فنا ہو کر الہی محبت حاصل کرتا ہے اس کے دل میں اس حد تک اللہ تعالیٰ کی ذاتی محبت پیدا ہوتی ہے جس کا اس حوالہ میں ذکر کیا گیا ہے۔خدا تعالیٰ نے اپنی ایک یہ صفت اور عادت بھی بیان فرمائی ہے کہ جب وہ اپنے کسی بندے سے پیار کرتا ہے تو اس پیار کا اظہار بھی کرتا ہے۔اس لئے جہاں تک اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن کریم کی سمجھ عطا فرمائی اور محمد رسول اللہ اللہ کے ارشادات کو سمجھنے کی توفیق بخشی ہے اس سے ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے پیار کی آواز اور اس کا اظہار مختلف طریقوں سے ہوتا ہے اس کا دروازہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور محمد علی اللہ کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں