مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 492
د مشعل راه جلد دوم فرموده ۱۹۷۸ء 492 وسرا بنیادی عقیدہ ہے۔ہم دل سے یقین کرتے ہیں کہ آنحضرت اللہ خدا کے نہایت ہی پیارے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں۔آپ افضل الرسل ہیں۔ہمارا اس بات پر بھی پختہ یقین ہے کہ آپ کے متعلق یہ جو کہا گیا ہے۔لولاک لما خلقت الافلاک یہ بالکل درست اور سچ ہے کیونکہ اگر محمد ﷺ کا وجود منصو بہ باری تعالیٰ میں نہ ہوتا تو اس کا ئنات کو بھی پیدا نہ کیا جاتا۔ہم اس بات پر بھی پختہ یقین رکھتے ہیں کہ آدم سے لے کر آنحضرت ﷺ کی بعثت تک جتنے انبیاء صلحاء اولیا قطب اور بزرگ گزرے ہیں سب نے آپ سے فیض لیا ہے لیکن آپ پر کسی کا احسان نہیں ہے۔ہر ایک کا ہاتھ آپ کے سامنے بڑھا اور آپ نے اس ہاتھ پر کچھ رکھا لیکن آپ کا ہاتھ کسی کے سامنے نہیں بڑھا اور کسی اور سے کچھ وصول نہیں کیا۔جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے آنحضرت عم تخلیق کا ئنات کا اصل سبب ہیں۔علاوہ ازیں ایک حدیث نبوی ہے جو حدیث کی مشہور کتاب مسند احمد بن حنبل میں درج ہے۔حضرت امام احمد بن حنبل ایک فقہی مسلک کے بانی ہیں جسے حنبلی فقہ کہا جاتا ہے۔آپ بڑے پایہ کے بزرگ ہیں۔آپ نے اپنی مسند میں یہ حدیث بیان کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میں اس وقت خاتم الانبیاء تھا کہ ابھی آدم کا وجود بھی دنیا میں نہیں تھا جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک لاکھ ہیں ہزار یا کچھ زیادہ یا جتنے مرضی انبیاء کہہ لیں جو آدم کی نسل میں پیدا ہوئے وہ سارے صلى الله کے سارے محمد رسول اللہ ﷺ کے خاتم الانبیاء کے مقام پر فائز ہونے کے بعد آئے یہ نہیں کہ آنحضرت ما بعثت کے وقت خاتم الانبیاء بنائے گئے تھے اور آپ سے پہلے جو نبی تھے وہ گزر گئے اور ان کا آپ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا۔آنحضرت یه آدم سے پہلے اور ایک لاکھ بیس ہزار انبیاء سے بھی پہلے خاتم الانبیاء تھے۔یہ کوئی فلسفیانہ بحث نہیں ہے بلکہ یہ ایک حقیقت ہے۔یہ کوئی تھیوری نہیں ہے۔جو آئندہ کے لئے پیش کی جاتی ہے یا کوئی Invention (ایجاد ) نہیں ہے کہ جس میں تبدیلی ممکن ہو۔مثلاً موٹروں، ہوائی جہازوں، مشینوں اور دواؤں کے اندر ترمیم اور تبدیلی ہوتی رہتی ہے یہ اس قسم کی کوئی چیز نہیں ہے بلکہ یہ ایک حقیقت کا ئنات ہے۔جس طرح خدا تعالیٰ کی وحدانیت بنیاد ہے۔اس کائنات کی اسی طرح یہ بھی آدم کے ساتھ تعلق رکھنے والی جو دنیا ہے اس کی بنیادی حقیقت محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ کا خاتم الانبیاء ہونا ہے۔حضرت نبی اکرم ﷺ پر قرآن کریم نازل ہوا۔یہ ایک کامل اور مکمل کتاب ہے۔اس میں وہ تمام صداقتیں پائی جاتی ہیں جو پہلی شریعتوں کے اندر موجود ہیں تو کیا کوئی آدمی یہ سوچ بھی سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کو پہلی شرائع کا محتاج بنایا ہے؟ یعنی کچھ تو رات سے لے لیا اور کچھ لے لیا کسی اور شریعت سے۔گویا جتنی شریعتیں آچکی ہیں ان میں سے تھوڑا تھوڑا لے لے کر قرآن کریم بنالیا۔ایسا ہر گز نہیں ہے۔اور نہ ہی فيها كتب قيمة کے یہ معنے ہیں چونکہ زمانہ کے لحاظ سے قرآن کریم کا نزول پیچھے ہوا اس لئے انسانی عقل یا میں کہوں گا