مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 479
479 فرموده ۱۹۷۸ء دو مشعل راه جلد دوم دد اور ورزش بھی ضروری ہے۔اس لئے تم سیر کرو غلیل سے فاختہ کا شکار کر کے بڑا مزے دار گوشت کھاؤ تمہیں کون منع کرتا ہے۔مزے کرو۔یہ جائز مزے ہیں۔ان سے اسلام نے نہیں روکا۔یہ چیزیں تمہارے لئے پیدا کی گئی ہیں۔ساری دنیا کی اچھی چیزیں محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ کے غلاموں کے لئے پیدا کی گئی ہیں۔اسی لئے ایک روایت میں آپ کے متعلق کہا گیا ہے :- الله لولاک لما خلقت الافلاک کہ اگر محمد رسول اللہ علیہ کی پیدائش مقصود نہ ہوتی یعنی خدا تعالیٰ کے علم کامل میں اور منصوبہ باری تعالیٰ میں نہ ہوتا کہ خدا نے محمد اللہ جیسا انسان پیدا کرنا ہے تو یہ دنیا پیدا نہ کرتا۔گو آپ اس دنیا کی سب چیزوں سے فائدہ نہ اٹھا سکے اس لئے کہ آپ نے ایک مدت تک عمر پائی اور اس کے بعد آپ کا وصال ہو گیا۔اب جو لوگ آپ کے نقش قدم پر چلتے ہیں اور آپ سے پیار کرنے والے ہیں اور آپ کے مخلص فدائی ہیں۔میرا یہ پختہ عقیدہ ہے دنیا کی ہر اچھی چیز محمد عے کے طفیل ان کے لئے پیدا کی گئی ہے۔بعض چیزیں مسلمان فدائی کوملتی ہیں اور بعض نہیں مانتیں تو ان کا ثواب لکھا جاتا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے تم پر اتنا بڑا احسان کیا۔عقل دے دی۔بعض بچے اپنی عقل ضائع کر دیتے ہیں۔نہ پڑھنے والوں کی مجلس میں شامل ہو جاتے ہیں اور اپنا وقت اور اپنی صلاحیت ضائع کرتے ہیں۔وہ بڑا ظلم کرتے ہیں۔اپنے نفس پر بھی اور اپنی قوم پر بھی۔کیونکہ ترقی کرنے والے جتنے بچے قوم میں پیدا ہوں گے اتنی ہی قوم زیادہ ترقی کرے گی۔دو سال کی بات ہے ہمارا ایک لڑکا ایم ایس سی فزکس میں یہاں اول آیا۔اس نے اتنے نمبر لئے کہ لوگ حیران تھے اس کا ریکارڈ کون تو ڑے گا۔وہ پی ایچ ڈی کرنے کے لئے انگلستان گیا۔انگریزوں میں بڑا تکبر پایا جاتا ہے انہوں نے کہا ہم نے تمہیں پی ایچ ڈی کلاس میں نہیں لینا کیونکہ تم پاکستان سے آئے ہو۔وہاں تو کوئی اچھی طرح پڑھاتا نہیں اس لئے تم پہلے ایم ایس سی کرو پھر تمہیں پی ایچ ڈی میں داخل کریں گے۔یہ ۱۹۷۶ء کی بات ہے۔اتفاقا میں بھی ان دنوں وہیں تھا۔جماعت ہی اس کو پڑھا رہی تھی۔کیونکہ ہمارا کوئی ذہین بچہ ایسا نہیں جسے جماعت چھوڑ دیتی ہو کہ وہ خراب ہو جائے۔ہم اسے خدا تعالیٰ کے فضل سے سنبھال لیتے ہیں۔چنانچہ وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا آپ نے مجھے کہا تھا پی ایچ ڈی کرو لیکن یہ لوگ کہتے ہیں پہلے ایم ایس سی کرو مجھے بتائیں میں کیا کروں۔میں نے کہا تم ایم ایس سی میں داخل ہو جاؤ۔چنانچہ وہ دوبارہ ایم ایس سی میں داخل ہو گیا ابھی چند ماہ ہی گزرے تھے کہ یو نیورسٹی کہنے لگی نہیں تیرا علم بڑا ہے تم پی ایچ ڈی کر لو۔وہ پی ایچ ڈی میں داخل ہو گیا اور وہ پی ایچ ڈی جسے انگریز لڑ کے تین تین چار چار سال میں کرتے ہیں اس نے دو سال میں کر لی اور ابھی اس کا نتیجہ نہیں نکلا تھا کہ آکسفورڈ اور کیمبرج جیسی بڑی بڑی یونیورسٹیاں اس کو لیکچر دینے کے لئے بلاتی ہیں۔