مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 480
مشعل راه جلد دوم ہر بچے کو جو صلاحیت ملی ہے اُسے ضائع نہ کرے فرموده ۱۹۷۸ء 480 پیارے بچو! تم میں سے ہر ایک بچہ اگر چاہے تو ایسا بن سکتا ہے۔اگر خدا تعالیٰ نے تمہیں صلاحیت دی ہے تو اسے ضائع نہ کرو۔اگر تم اپنی ذہانت سے پورا پورا فائدہ اٹھاؤ گے تو کوئی کسی لائن میں آگے نکلے گا اور کوئی کسی لائن میں آگے نکلے گا۔پھر اس وقت اللہ تعالیٰ کے فضل سے تمہارے حصے میں خوشیاں آئیں گی۔اس وقت کی تمہاری جو خوشیاں ہیں بچپن کی وجہ سے ان خوشیوں کے معنے بھی تمہیں نہیں آتے۔لیکن اگر عملی میدان میں دوسروں سے آگے نکلو گے تو اس سے جو خوشیاں حاصل ہوں گی وہ کہیں زیادہ اچھی ہوں گی۔ان سے تمہارے خاندان کا نام بلند ہو گا۔تمہارے مالی حالات اچھے ہو جائیں گے دنیا میں تمہارے لئے ایک عزت کا مقام پیدا ہو جائے گا۔خدا کی راہ میں تم کام کرو گے تو خدا تعالیٰ کی نگاہ میں تمہاری عزت پیدا ہوگی اور تم قوم اور ملک کے لئے باعث فخر بن جاؤ گے۔تمہارے والدین ہمیشہ تمہارے لئے دعائیں کرتے ہیں اب تم ان کو یہ بدلہ دو گے کہ وہ بھی فخر کریں کہ ان کے بچے ایسے نیک نکلے ہیں جنہوں نے اپنے اوقات کو ضائع نہیں کیا بلکہ اپنے اوقات کو صحیح مصرف میں لائے ہیں۔پس جیسا کہ میں نے کہا ہے اسلام کوئی پوستیوں کا مذہب نہیں۔اسلام تو انسان کا مذہب ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو جسم دیا ہے۔جسمانی طاقتیں دی ہیں۔جسمانی طاقت کو قائم رکھنے کے لئے اچھا اور متوازن کھانا ہے۔جو اس کے لئے مہیا کیا ہے قرآن کریم نے کہا ہے کہ ہر چیز میں توازن ہونا چاہیئے اس لئے ہماری غذا متوازن ہونی چاہیئے۔اب آج کی دنیا میں سائنسدانوں نے بڑے فخر سے کہا ہے کہ انہوں نے متوازن غذا کا اصول بنایا ہے۔حالانکہ قرآن کریم نے چودہ سو سال پہلے سے میزان کا قانون بنایا ہوا ہے اور ہدایت دی ہے کہ اس مطابق کھانا کھاؤ اور ہضم کرنے کی کوشش کرو۔آخر جسم میں طاقت اور جان ہوگی تو عقل بھی تعلیم کا بوجھ اٹھائے گی۔میں نے دیکھا ہے میں کالج میں پڑھاتا رہا ہوں۔بڑی دیر کی بات ہے ایک طالب علم جس نے بی اے کا امتحان دینا تھا اس کے چہرے پر داغ پڑے ہوئے تھے اور ایسے داغ صحت کی کمزوری کی وجہ سے پڑ جاتے ہیں۔مجھے اپنے آپ پر بڑا غصہ آیا یہ سوچ کر کہ میں نے اس کا خیال نہیں رکھا۔چند مہینوں کے بعد اس کا امتحان ہے اس کو کھانے کے لئے حسب ضرورت نہیں ملا اس لئے کمزور ہو گیا ہے۔میں ان دنوں کھلاڑیوں کو مختلف شکلوں میں سویا بین کھلایا کرتا تھا۔لیکن جو طالب علم محنت کرنے کی وجہ سے کمزور ہوتے تھے ان کی طرف میری توجہ نہیں گئی تھی۔چنانچہ میں نے پھر محنتی طلبہ کے لئے بھی سامان کیا اور جب اس لڑکے کو میں نے سویا بین دی جو بڑی اچھی چیز ہے تو دس پندرہ دن کے بعد میں نے دیکھا کہ اس کے چہرے پر صحت کی سرخی آگئی۔ایسی صورت میں طالبعلم چاہے سولہ گھنٹے روزانہ پڑھے اس کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔لیکن اگر صحت ٹھیک نہیں ہوگی تو زیادہ پڑھائی نہیں کر سکے گا۔پھر اسی طرح توجہ بڑی ضروری ہے اگر توجہ نہ ہو مثلاً اطفال الاحمدیہ کے اس اجتماع میں بچے بیٹھے ہیں اگر کسی کی توجہ ادھر ادھر ساتھیوں کی طرف ہو تو وہ میری بات نہیں سن سکے گا۔جب سنے گا نہیں تو اسے یاد نہیں رکھے