مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 103 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 103

103 فرموده ۱۹۶۸ء د و مشعل راه جلد دوم دینے کا حکم ہو ) پیش کر دیں۔سو ہم یہ چیزیں اس یقین پر اور اس دعا کے ساتھ پیش کر رہے ہیں کہ تو ہم پر رحم کرے اور اپنی دینی اور دنیوی نعمتوں سے ہمیں نوازے اور اس دنیا میں بھی تیری رضا کی نظر ہم پر رہے اور اُس دنیا میں بھی ہم تیری رضا حاصل کرنے والے ہوں۔تحریک جدید اس وقت میں احباب جماعت کو دو چندوں کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔ایک تو چندہ تحریک جدید ہے اور دوسرا چندہ وقف جدید - تحریک جدید کی آمد اب تک جو ہوئی ہے وہ تسلی بخش نہیں۔گو وہ ہے کافی (جماعت بڑی قربانی کرنے والی ہے لیکن بعض دفعہ احباب جماعت تو چست ہوتے ہیں۔مگر مقامی طور پر نظام جماعت سست ہوتا ہے اور اس طرح کاغذوں میں کمی نظر آجاتی ہے۔ہماری دو جماعتیں ہیں جن کا چندہ زیادہ ہوتا ہے اور ان کے تحریک جدید کے وعدے بھی زیادہ ہیں وہ دو جماعتیں ربوہ اور کراچی ہیں۔ربوہ ابھی تک اس وعدہ سے بھی پیچھے ہے جو اس نے پچھلے سال انصار اللہ کے اجتماع کے موقع پر کیا تھا اسی طرح کراچی کی جماعت بھی ابھی اس وعدہ سے پیچھے ہے ( وعدوں کے لحاظ سے۔ادائیگی کے لحاظ سے نہیں) جو مجموعی طور پر کراچی کی طرف سے پچھلے سال انصار اللہ کے اجتماع کے موقع پر ہوا تھا۔کراچی کی جماعت نے یہ مجموعی وعدہ کیا تھا اور کہا تھا کہ ہم احباب جماعت میں تحریک کر کے ایک لاکھ ایک ہزار روپیہ تحریک جدید کی مد میں ادا کریں گے۔اس وعدہ میں ابھی سات آٹھ ہزار روپیہ کی کمی ہے ربوہ کا وعدہ ستر ہزار روپیہ کا تھا اس وعدہ کے لحاظ سے ربوہ بھی سات ہزار پیچھے ہے یعنی ابھی تک ۶۳ ہزار روپیہ کے وعدے ہوئے ہیں۔غرض وعدے بھی بڑھانے ہیں اور ادائیگیاں بھی تیز کرنی ہیں تا کہ جو کام خدا تعالیٰ کے فضل سے کامیابی کے ساتھ تحریک جدید کی قربانیوں کے نتیجہ میں ساری دنیا میں ہو رہا ہے وہ جاری رہ سکے اور ترقی کر سکے۔تحریک جدید کے کام نے آہستہ آہستہ ترقی کی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ہماری ضرورتیں بھی بڑھ رہی ہیں۔جب یہ کام شروع ہوا تھا تو سارا مالی بوجھ ہندوستان (اس وقت تقسیم ملک نہیں ہوئی تھی) کی جماعتوں پر تھا۔پھر بیرونی جماعتیں بڑھیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں بھی اخلاص اور ایثار کا جذبہ پیدا کیا اور اس وقت وہ (غیر ممالک کے احمدی ) پاکستان کے کل چندہ تحریک جدید سے آٹھ گنا زیادہ چندہ ادا کر رہے ہیں۔گویا پاکستان کی جماعتیں اخراجات ( جو بیرونی ممالک میں ہو رہے ہیں ) کا آٹھواں حصہ بلکہ اس سے بھی کم شاید نواں حصہ) ادا کر رہی ہیں۔پھر اس رقم میں سے بھی کچھ رقم با ہر نہیں جاسکتی کیونکہ اس وقت فارن ایچینج پر پابندی لگی ہوئی ہے۔پھر یہاں کے اخراجات بھی ہیں مثلاً مبلغوں کی تربیت ہے۔مبلغ پیدا کرنے۔یہاں کے کارکنوں کی تنخواہوں وغیرہ اور خط و کتابت پر بہت سے اخراجات یہاں کرنے پڑتے ہیں۔غرض ہمارا چندہ تحریک جدید کے کل چندہ کا کوئی آٹھواں یا نواں حصہ بنتا ہے۔اگر ہم اس کی ادائیگی میں بھی سنتی کریں تو ہم سلسلہ کی بڑھتی ہوئی ضرورتوں کو کیسے پورا کریں گے۔حالات بدل رہے ہیں اور ان کے ساتھ ساتھ ہماری ضرورتیں بھی