مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 104 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 104

فرموده ۱۹۶۸ء 104 د دمشعل ن راه جلد دوم بڑھ رہی ہیں مثلاً آپ دیکھیں ایک ملک میں آپ نے کام کیا وہاں عیسائیت بڑے زوروں پر تھی اور وہ امید رکھتی تھی کہ عنقریب وہ سارا ملک عیسائی ہو جائے گا پھر ہمارے مبلغ خدا کی توفیق سے وہاں پہنچے اور خدا کی توفیق ہی سے ان کے کاموں میں برکت پیدا ہوئی اور آج وہاں کے حالات بدلے ہوئے ہیں اور اس قدر بدلے ہوئے ہیں کہ ایک ملک سے بہت سے خطوط آتے رہتے ہیں۔میں ایک مثال دے رہا ہوں) مجھے مطالبہ آیا کہ یہاں کے حالات کے لحاظ سے آپ فورا ۹ (نو) اور مبلغ ہمارے ہاں بھجوا دیں۔یہ افریقہ کا ایک ملک ہے اور لکھنے والے بھی افریقن احمدی ہیں۔غرض دنیا کے حالات بدل رہے ہیں غرض دنیا کے حالات بالکل بدل رہے ہیں اور جب حالات بدلے ہیں تو ہماری ضرورتیں بھی بدلیں گی۔مثلاً ایک ملک میں ہمارا مبلغ گیا اس نے کام کی ابتداء کی اور اس وقت وہ کام تھوڑا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس میں برکت ڈالی اور وہ پھیلا اور اب ہم الحمد للہ کہتے کہتے تھکتے ہیں اور اسی کا وہ سزاوار ہے اور جب ہمارا کام پھیلا اور بڑھا تو ہمیں اور زیادہ روپیہ کی ضرورت ہوئی۔لیکن اگر ہم یہ کہیں کہ ہم تو یہ ذمہ داریاں نبھانے کیلئے تیار نہیں تو یہ کئے کرائے پر پانی پھیر نے والی بات ہے۔اسی لئے خدائے قادر و توانا نے کہا ہے کہ کام تو نہیں رکے گا لیکن پھر مجھے خلق جدید کرنی پڑے گی۔ہمیں یہ دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اندر ہی زندگی قائم رکھے اور ہماری حیات روحانی ہم سے نہ چھینے اور ہمیں تحریک جدید کے چندوں کو بڑھانے کیلئے کوشش کرنی چاہیے کیونکہ میں نے بتایا ہے کہ بہت سی جماعتوں نے ابھی وہ وعدے بھی پورے نہیں کئے جو انہوں نے مجموعی لحاظ سے پچھلے سال انصار اللہ کے اجتماع پر کئے تھے اور پھر ادائیگیاں بھی جلد تر پوری کرنی چاہئیں دفتر کا اندازہ ہے کہ اگر سال رواں کی آمد پچھلے سال کی آمد سے دس فیصدی نہ بڑھی تو ہماری بڑھتی ہوئی ضرورتیں پوری نہیں ہو سکیں گی۔وقف جدید دوسرے میں وقف جدید کے چندہ کی طرف جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں وقف جدید کا سال رواں کا چندہ تو خدا تعالیٰ کے فضل سے پچھلے سال سے کچھ اچھا ہے اور امید ہے وہ سال کے آخر تک پورا ہو جائے گا۔سال رواں کا بجٹ آمد ایک لاکھ چھیاسٹھ ہزار روپیہ تھا۔اس میں سے ایک لاکھ دس ہزار روپیہ ۱/۸ خاء تک وصول ہو چکے تھے۔گزشتہ جمعہ میں میرا خیال تھا کہ جماعت کو خطبہ جمعہ میں اس چندہ کے متعلق تحریک کروں لیکن میں بیمار ہو گیا اور جمعہ میں نہ آسکا۔بہر حال ۱۷۸ خاء کو ایک لاکھ دس ہزار روپیہ وصول ہو چکا تھا اور اس عرصہ میں اور وصولی بھی ہوئی ہوگی اور امید ہے ساری رقم وصول ہو جائے گی انشاء اللہ۔لیکن جنہوں نے وعدے لکھوائے ہیں وہ اپنے وعدے پورے کریں۔اگر سارے وعدے پورے ہو جائیں تو بجٹ سے کہیں زیادہ وصول ہو جائے گا۔اطفال