مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 102
فرموده ۱۹۶۸ء 102 دو مشعل راه شعل راه جلد دوم وہ بھی خیر ہے۔لیکن صحیح اور حقیقی معنی میں وہ خیر نہیں اور انسان خیر کا محتاج ہے۔اگر اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خیر نہ ملے بلکہ اس سے عام سلوک ہو تو اس دنیا میں تو اس کا پیٹ بھر جائے گا مگر اس دنیا میں بھوک کیسے دور ہوگی۔یا مثلاً اس دنیا میں سورج کی تپش ہے۔اگر اسے ایک چھوٹایا بڑا مکان مل گیا تو وہ اس تپش سے محفوظ ہو جائے گا لیکن اس دنیا میں جہنم کی آگ سے اسے کون بچائے گا۔اس دنیا میں اسے کوئی بیماری ہوئی تو کسی حکیم نے اسے روپیہ کی دوائی دے دی یا کسی ڈاکٹر نے دو ہزار روپیہ کی دوائی دے دی اور اسے آرام آ گیا۔یہ درست ہے لیکن اس دنیا میں جہنم میں جو بیماری ظاہر ہوگی۔جسم میں پیپ پڑی ہوئی ہوگی۔کسی کو کوڑھ ہوا ہو گا۔کسی کو فالج ہوگا اور کسی کو پتہ نہیں کون سی بیماری ہو۔روحانی طور پر جو اس کی یہاں حالت تھی وہ وہاں ظاہر ہورہی ہوگی۔وہاں کون ڈاکٹر اس کے علاج کیلئے آئے گا۔پس انسان کو ہر کام کیلئے اللہ تعالیٰ کی احتیاج ہے اور ہمیں ہر قسم کی قربانیاں اس کی راہ میں دینی چاہئیں۔اس وقت اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ پر مجھ پر بھی اور آپ پر بھی بڑا فضل کیا ہے اور ہمیں تو فیق عطا کی ہے کہ ہم اس کے مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لائیں اور اس کی راہ میں اس نیت سے قربانیاں دیں کہ اس کی رضا ہمیں حاصل ہو اور دنیا میں اسلام غالب آجائے۔اس وقت غلبہ اسلام کے راستہ میں جتنی ضرورتیں بھی پیش آتی ہیں وہ آپ لوگوں نے ہی پوری کرنی ہیں۔اگر آپ ان ضرورتوں کو پورا نہیں کریں گے تو کھڑے ہو کر یہ تقریر میں کرنا کہ اسلام کا غلبہ مقدر ہو چکا ہے اور اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے گا کہ ہمارے ذریعہ سے اسلام غالب آئے بے معنی چیز ہے۔اللہ تعالیٰ دنیا میں اسلام کو غالب تو کرے گا لیکن اگر ہم بحیثیت جماعت خلق جدید کے مستحق نہیں ٹھہریں گے تو دنیا میں کسی اور قوم میں خلق جدید کا نظارہ نظر آئے گا۔اسلام تو بہر حال غالب آئے گالیکن کیوں نہ وہ ہمارے ہاتھ سے غالب آئے۔کیوں غیر اللہ کے فضلوں کے وارث بنیں اور ہم محروم رہ جائیں۔ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہم بھی اور ہماری بعد میں آنے والی نسلیں بھی اور وہ لوگ بھی جو ہمارے ساتھ بعد میں آکر شامل ہوں گے سارے ہی خدا کے فضلوں کے وارث بنیں اور اس کے انعامات کے مستحق ٹھہریں۔پس بخل کو دل سے نکال دینا چاہیے اور اس یقین کامل کے ساتھ نکال دینا چاہیے کہ خدا کی راہ میں بخل دکھانا جہنم کو مول لینا ہے اور اس سے زیادہ شر اور کوئی ہے نہیں۔خدا کی راہ میں بخل غرض اگر ہم خیر چاہتے ہیں تو ہمیں دل سے بخل نکالنا پڑے گا اور خدا تعالیٰ کے در پر کھڑے ہو کر یہ کہنا پڑے گا کہ اے خدا سب کچھ تو نے ہی ہمیں دیا ہے ہم سے جتنا تو چاہتا ہے لے لے۔ہم جانتے ہیں کہ زمین و آسمان کی میراث تیری ہی ہے۔سب کچھ تیرا ہے۔تو ہمارا امتحان لیتا ہے آزماتا ہے اور تو ہم سے یہ چاہتا ہے کہ ہم ان چیزوں کو جو تیرے فضل نے ہمیں دی تھیں تیرے حضور ساری (اگر ساری کی ساری دینے کا حکم ہو) یا کچھ (اگر کچھ