مسیح کشمیر میں

by Other Authors

Page 55 of 128

مسیح کشمیر میں — Page 55

55 دو سینٹی میٹر چوڑی پٹی کی ضرورت ہوگی اور یہ پٹی ایسے طور پر اتاری جاسکتی ہے کہ چادر یا دیگر اہم نقوش پر کوئی اثر نہ پڑے گا۔چونکہ تقدس مآب پوپ کے سوا اور کوئی اسکی اجازت نہیں دے سکتا اسلئے وہ درخواست کرتے ہیں کہ مقدس چادر کا یہ معمولی سائکڑا دیے جانے کا حکم صادر فرمایا جائے۔جاسکتا۔اس چٹھی کا جواب چار ماہ بعد یہ دیا گیا کہ افسوس ! آپ کی استدعا کوکسی صورت میں بھی قبول نہیں کیا اس منفی جواب پر جرمن کنونشن تو خاموش ہو گیا مگر چرچ کو یہ فکر دامنگیر ہوئی کہ اگر جرمن محققین کی یہ تحقیق درست ہے تو ہمارا مسیح کے صلیبی موت کا عقیدہ غلط ثابت ہو جائیگا جس پر کفارہ کے عقیدہ کی بنیاد ہے اس لئے مخفی طور پر انہوں نے خود اسکی تحقیق شروع کر دی اور دس ( 10 ) ماہرین کی خدمات حاصل کر کے انتہائی راز داری کے ساتھ رات کے اندھیرے میں جا کر اس کام کو انجام دینے لگے۔ان حالات میں جرمن کنونشن جو عالمی فاؤنڈیشن برائے پارچہ مسیح کے نام سے اب سوئٹزر لینڈ میں قائم ہو چکی تھی کو خفی ذرائع سے پتہ چلا کہ وہ مقفل صندوق جس میں چادر رکھی جاتی ہے کھولا گیا ہے اور اس کام کو صیغہ راز میں رکھا جا رہا ہے۔اس سے یہ بھی خدشہ پیدا ہوا کہ کہیں یہ قیمتی چادر ضائع نہ کر دی جائے چنانچہ اس کنونشن نے ایک کتا بچہ شائع کر دیا۔جس میں چادر پر جرمن تحقیق کے نتائج کا مختصر اذ کر کیا گیا تھا نیز چادر کے ضائع ہونے کے خدشہ کا بھی اظہار کیا گیا۔کتاب شائع ہونے پر ویٹیکن ( پاپائے روم کا دارالسلطنت ) کی طرف سے اس خدشہ کی تردید کی گئی کہ اس کتابچہ میں کوئی صداقت نہیں ہے نہ چادر کے موضوع پر ویٹیکن الجھنے کا کوئی ارادہ رکھتا ہے۔یہ تردید بھی عالمی پریس نے شائع کر دی۔بعد میں فاؤنڈیشن نے ایک احتجاجی مراسلہ ویٹیکن بھجوا دیا جس پر پوپ کو تسلیم کرنا پڑا کہ صندوق کھولا گیا ہے اور چادر پر مخفی تحقیق کی گئی ہے۔اس احتجاجی مراسلہ کو بھی عالمی پریس نے شائع کر دیا۔اس کے بعد بھی روم کے پوپ پرشبہ کا ازالہ تو نہیں ہوا جس پر پوپ کو 5 جنوری 1970 ء کو اپنی صفائی میں لکھنا پڑا کہ چادر یسوع مسیح کا مقدس ترین تبرک ہے اور رہے گا اسے ضائع کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔نیز اعتراف کیا کہ حفاظتی صندوق کو کھول کر کفن کی تصاویر لی گئی ہیں۔ایک اطلاع کے مطابق روم کے پوپ نے جرمن کنونشن کو ردائے مسیح کا ایک ٹکڑافنی ، کیمیاوی اور ایٹمی تجربات کیلئے دے دیا۔جس ڈاکٹر نے ردائے مسیح کے اس ٹکڑے پر تحقیقات کی ہیں اس کا کہنا ہے کہ: اس کی تحقیقات اس قدر سنسنی خیز ہیں کہ ان کا نکشاف کئے جانے پر دنیا میں