مسیح کشمیر میں — Page 54
54 اس کفن کے متعلق عجیب واقعہ یہ ہے کہ 1898ء میں اٹلی کے ایک وکیل پیا (PIA) نے ردائے مسیح کی تصویر لی۔جب اس نے تصویر کو DEVELOP کرنے کے بعد اس کے عکس کو سورج کی روشنی میں دیکھا تو اسکی حیرانی کی کوئی حد نہ رہی کیونکہ حضرت مسیح کی یہ تصویر مثبت تھی اور کفن والی تصویر منفی تھی۔33 سال بعد 1931ء میں جب کفن کی دوبارہ نمائش ہوئی تو ایک اطالوی فوٹوگرافرمسٹرانری نے چرچ کے خاص انتظام کے ماتحت دوسری بار اس چادر کا فوٹو لیا اور پہلے سے زیادہ بہتر آلات اور تیز برقی شعاعیں استعمال کیں تو اس سے اور بھی عمدہ نتائج نکے کیونکہ یہ تصویر پہلے سے زیادہ صاف اور واضح تھی۔جب اس پر جرمن سائنسدانوں نے تحقیق کی تو اس واضح حقیقت کا انکشاف ہوا کہ کفن پر جس کی تصویر بنی ہے وہ مردہ نہ تھا، گو جسم کی تصویر کیمرے سے مثبت آئی لیکن خون کے دھبے منفی تھے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ خون جسم سے بہہ رہا تھا۔تحقیق سے معلوم ہوا کہ چادر کومر میں ڈبویا گیا تھا اسلئے جب وہ مسیح کے جسم پر لپیٹی گئی تو مسیح کے جسم سے جو پسینہ نکلا اس سے چادر نمدار ہوکر پلیٹ بن گئی اور اس پر مسیح کے جسم کے نقوش ثبت ہو گئے جو منفی تھے۔اس زمانہ میں چونکہ یہ مقدس کفن کیمرے کی ایجاد سے پہلے کا تھا اور اس پہلے نیگیٹو (NEGATIVE) تصویر کوکوئی نہیں جانتا تھا۔اسلئے یہ قطعی ثبوت ہے کہ یہ تصویر طبعی اور قدرتی ہے۔مصور کے کسی انسانی ہاتھ نے نہیں بنائی۔جرمن محققین نے تجویز کی کہ پوپ آف روم کو جو عیسائیوں کے سب سے بڑے اور فعال فرقہ رومن کیتھولک کے روحانی پیشوا ہونے کے علاوہ چادر کے تین محافظین میں سے ایک ہیں ، ایک چٹھی لکھی جائے اور ان سے درخواست کی جائے کہ وہ کپڑے کا کچھ حصہ مختلف قسم کے فنی اور ایٹمی تجربہ کیلئے دینے کی اجازت مرحمت فرما دیں۔چنانچہ یہ چٹھی جرمن کنونشن برائے پارچہ مسیح کے جنرل سیکرٹری مسٹر کرٹ برنا (KURT BERNA) کی طرف سے 26 فروری 1959ء کو پاپائے روم کے نام لکھی گئی جس میں چادر کی مذہبی اور سائنسی قدر و قیمت اور اس پر موجود تصاویر اور خون کے دھبوں کے نقوش پر ہونے والی تحقیق کی نزاکت اور اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے ان سے درخواست کی کہ: 1۔ضروری ہے کہ چادر پر موجود خون کے دھبوں کا جدیدترین کیمیائی عمل کے ذریعہ تجزیہ کیا جائے۔2۔چادر کے کپڑے کو ایکسرے تحت الاحمر اور بالائی بنفشی شعاعوں کے ذریعہ دیکھ کر اس کے اجزائے ترکیبی کا جائزہ لیا جائے۔3۔نیز ایٹمی گھڑی کی مدد سے چادر کی عمر کا صحیح اندازہ لگایا جائے۔انہیں اس مقدس چادر کی صرف