مسیح کشمیر میں — Page 56
56 56 66 قیامت خیز تہلکہ مچ جائے گا۔“ ابھی تک یہ نتائج صیغہ راز میں ہیں اور ممکن ہے کہ انگلستان میں کفن مسیح پر ہونے والی کانفرنس کے دوران اس کا انکشاف ہو۔تاریخی پس منظر اس کفن کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟ اس سلسلہ میں یہ سمجھنا چاہئے کہ یہ کوئی جعلی چادر نہیں ہے بلکہ اس کا ذکرمتی ، مرقس، لوقا اور یوحنا کی چاروں انا جیل میں پایا جاتا ہے اور اسکا دو ہزار سال سے عیسائی تبرکات میں مختلف تاریخی انقلابات کے باوجود محفوظ چلے آنا اور ہر 33 سال کے بعد عیسائی دنیا میں اسکی زیارت کیلئے خاص دن منانا اور اسکی تقدیس کرنا اسکی اصلیت اور اسکے متبرک ہونے پر روشن گواہ ہیں۔یوحنا کی انجیل میں جہاں مسیح کی لاش کو صلیب سے اتارے جانے اور یوسف ارمنیا کا اس لاش کو پیلاطوس سے اجازت لیکر کتانی کپڑے میں کفنانے اور مسیح کے اٹھ کر چلے جانے کے بعد قبر میں خالی کپڑا پڑے رہنے کا ذکر کیا گیا ہے، یوں لکھا ہے: ان باتوں کے بعد ارمیا کے رہنے والے یوسف نے جو یسوع کا شاگر د تھا لیکن یہودیوں کے ڈر سے خفیہ طور پر پیلاطس سے اجازت چاہی کہ یسوع کی لاش لے جائے ، پیلاطس نے اجازت دے دی، پس وہ آکر اس کی لاش کو لے گیا اور نکادیمس ( حکیم ) بھی آیا جو پہلے یسوع کے پاس رات کو گیا تھا اور پچاس سیر کے قریب مُر اور عود ملا ہوا لایا۔پس انہوں نے یسوع کی لاش لے کر اسے کتانی و کپڑے میں خوشبو دار چیزوں کے ساتھ کفنایا جس طرح کہ یہودیوں میں دفن کرنے کا دستور ہے۔اور جس جگہ وہ مصلوب ہوا وہاں ایک باغ تھا جس میں ایک نئی قبر تھی جس میں کبھی کوئی نہ رکھا گیا تھا۔پس انہوں نے یہودیوں کی تیاری کے دن کے باعث یسوع کو وہیں رکھ دیا۔کیونکہ یہ قبر نزدیک تھی۔“ ( یوحنا باب 19 آیات 38 تا 41) پھر مکتوب سکندریہ میں واقعہ صلیب کے سات سال بعد یسوع کے ایک خاص معتقد نے جو ایسینی فرقہ سے تعلق رکھتا تھا مصر کے احباب جماعت کو واقعہ صلیب کی چشم دید شہادت کے طور پر لکھا۔اس کفن کا ی کتابی چادر مرقس اور لوقا کی انا جیل میں مول لے کر کفنانے کا ذکر ہے۔(مرقس باب 15 آیت 45 و لوقا باب 23 آیت 52 کیتھولک بائیبل اور انگلش مترجم 1611ء)