مسیح کشمیر میں — Page 45
45 ( مصدقہ ایڈیشن ) میں یہ سب بیانات شامل ہیں اور 1881 ء کے Revised Version میں ان آیات کے حاشیہ پر یہ نوٹ دیا گیا ہے کہ بعض بہترین اور مستند نسخوں میں مسیح کے آسمان پر جانیوالے بیانات نہیں ملتے۔اور 1946 ء کے ''Revised Standard Version ( نئے معیاری ترجمہ) میں یہ سب آیات متن سے خارج کر کے حاشیہ پر درج کر دی گئی ہیں اور ساتھ ہی یہ نوٹ دیا گیا ہے کہ کچھ نسخوں میں یہ آیات شامل ہیں اور ایک مختلف عبارت بھی انجیل کے اردو ترجمہ میں بھی اب یہ نوٹ دیا گیا ہے کہ بعض قدیم نسخوں میں مرقس کی انجیل کی آخری بارہ آیات شامل نہیں بلکہ ان کی بجائے ایک اور عبارت درج ہے جس میں مسیح کے آسمان پر جانے کا کوئی ذکر نہیں بلکہ مشرق سے شاگردوں کی معرفت مغرب میں دین کی منادی کرنے کا ذکر ہے۔چنانچہ جان ولیم برگن ایک عیسائی محقق لکھتے ہیں: From the earliest period it had been customary to write "TEYOS" (The end) after the 8th Verse of the last chapter۔6 ترجمہ: عیسائیت کی پہلی صدیوں میں انجیل مرقس کے آخری باب کی آٹھویں آیت کے بعد یونانی لفظ "TEYOS" ختم شدہ لکھنے کا رواج تھا۔اس سے ظاہر ہے کہ آٹھویں سے بعد کی آیات 9 تا 20 جن میں مسیح کے آسمان پر اٹھائے جانے کا ذکر ہے بعد کی ملاوٹ ہیں۔اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انجیل مرقس کی یہ آیات کس نے بڑھائی ہیں ؟ مشہور سکالری۔آرگریگوی اس سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں۔یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ موجودہ آیات 9 تا 20 کہاں سے آگئیں۔چند سال پہلے اس سوال کا جواب کوئی شخص نہیں دے سکتا تھا لیکن اب ہمارے پاس اس کا جواب موجود ہے۔فریڈرک کارنوالس کان بیر کو ایک قدیم آرمینی نسخہ ملا ہے جس میں مرقس کی آیات کو پریسپیٹر ارسٹن کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔اب شک کرنے کی کوئی وجہ نہیں کہ ان آیات کا مصنف مرقس نہیں بلکہ یہی شخص ہے۔“ دوسری طرف مشہور بائیل سکالرسی۔آر گریگوری کو انجیل کا جو نسخہ کوہ ایتھاس سے ملا ہے اس میں مرقس کے آخر میں لکھا ہے: "And All the things announced to the those about Peter The revision revised by T۔W Borgon B۔D Dean of chichester P۔S۔L