مسیح کشمیر میں — Page 95
95 یوز آسف کی تعلیم 1۔اس دستاویز سے ظاہر ہے کہ حضرت یوز آسف اہل کشمیر کو جبکہ وہ بت پرستی اور شرک و بدعات میں مبتلا ہو چکے تھے تو حید الہی کی طرف دعوت دیتے رہے کہ صرف ایک خدا کی بندگی کریں اور کسی کو اسکا شریک نہ ٹھہرائیں، یہی تعلیم انا جیل میں مسیح کی بیان ہوئی ہے چنانچہ یوحنا کی انجیل میں ہے کہ یسوع مسیح نے فرمایا۔ہمیشہ کی زندگی یہ ہے کہ وہ تجھے خدائے واحد اور برحق کو اور یسوع مسیح کو جسے تو نے بھیجا ہے جانیں، جو کام تو نے مجھے کرنے کو دیا تھا اسکو تمام کر کے میں نے زمین پر تیرا جلال ظاہر کیا۔(انجیل یوحنا باب 17 آیت 4-5) 2۔ہندوؤں کے بھوش پر ان کے مطابق جس کا ذکر گزر گیا، سا کا راجہ کے پوچھنے پر حضرت مسیح نے اپنی تعلیم کے بارے میں فرمایا، اے بادشاہ! اس مذہب کو سنیں جو میں نے لوگوں میں نافذ کیا۔انسان کو اپنی انسانیت کو صاف اور جسم کو پاک کر کے یکسو ہوکر خدا سے دعا کرنی چاہئے اور اس ابدی اور مقدس ہستی کی عبادت کرنی چاہئے اور انصاف، سچائی ، دلجمعی اور پوری یکسوئی کے ساتھ اسکی طرف متوجہ ہونا چاہئے جو سورج کے آسمان میں ہے۔خدا خود اپنے طریق کو نہیں چھوڑ تا جس طرح سورج ہمیشہ آخر کار سب خطا کار مخلوق کی روح کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔اے بادشاہ ، یہ وہ پیغام ہے جو روح القدس نے ظاہر ہوکر خدا کی طرف سے مجھے دیا۔میں محبت ، سچائی اور دل کی پاکیزگی قائم کرنے کیلئے آیا ہوں۔اس وجہ سے میں عیسی مسیح کہلاتا ہوں۔اسلام سے قبل یوز آسف بلو ہر“ نامی ایک کتاب جو یوز آسف کے حالات اور تعلیمات پر مشتمل گویا انکی انجیل ہے، کشمیر کے قدیم مسیحیوں اور بدھوں کے پاس سنسکرت زبان میں تھی۔دوسری صدی ہجری میں اس کتاب کا ترجمہ بعہد ابو جعفر منصور عباسی عربی زبان میں ابن المقفع نے کیا۔یہ ترجمہ اتنا مقبول ہوا کہ مشرق میں اس کا ترجمہ فارسی ، حبشی ، جارجین ، ارمنی اور عبرانی زبانوں میں ہو گیا۔مغرب کی عیسائی دنیا میں اسکی شہرت مشرق سے بھی زیادہ پھیلی۔عیسائی واعظوں نے اس کتاب میں یوز آسف پیغمبر کی نصائح اور تمثیلوں کے ذریعہ اپنے مواعظ کو موثر بنانا شروع کیا اور ناروے کے ایک عیسائی بادشاہ نے 1214ء میں اسکا ترجمہ آئس لینڈ کی زبان میں بھی خود کیا اور شائع کیا اور ابھی تک اس کتاب کی دلچسپی اور تراجم میں کمی نہیں ہوئی ہے۔عہد عباسیہ کا سنسکرت سے عربی میں ترجمہ شدہ نسخہ کا اردو تر جمہ 1899ء میں سید عبدالغنی عظیم آبادی نے کیا جو حیدر آباد دکن سے شائع ہوا۔1947ء میں روسی زبان میں اسکا تر جمہ ڈاکٹر روزن نامی نے کیا جو