مسیح کشمیر میں

by Other Authors

Page 94 of 128

مسیح کشمیر میں — Page 94

94 24 نیست لهذه وثيقه هذا سند باید (المرقوم 11 جمادى الثاني (1194ه) اس دستاویز کے نیچے جن بزرگوں کے دستخط یا مواہیر ہیں انکے نام یہ ہیں۔(1) بابا محمد اعظم (2) عبدالشکور (3) محمد اکبر (4) محمد اعظم خادم درگاه (5) حافظ احسن اللہ (6) رضا اکبر (7) قائم شاہ (8) خضر محمد (9) مہری عطاء۔ترجمہ: محکمہ عالیہ دار العدالت قضایا میں حاضر ہو کر مسمی رحمان خاں ولد امیر یار نے بیان کیا ہے کہ اس سال یوز آصف کی قبر کی زیارت پر امراء ووزراء وسلاطین ورؤسا اور عوام وخواص کی طرف سے نذرونیاز کے طور پر جو پہنچ رہا ہے اس کا کلیتہ حقدار ولی ہوں ، دوسروں کیلئے اس میں مداخلت ممنوع رہی ہے۔شہادت لینے کے بعد اس طرح ثابت ہوا ہے کہ راجہ گو پانند کے عہد حکومت میں جو کوہ سلیمان کی عمارت اور بہت سے بت خانوں کا بانی ہے ایک ریاضت کر نیوالا یوز آصف نام ہندوستان کا شہزادہ دنیا ترک کرنے میں پر ہیز گار ویگانہ ہے۔دن رات ریاضت و عبادت باری تعالیٰ میں مشغول تھے۔اکثر وقت خلوت میں گزارتے تھے ، حضرت نوح کے طوفان کے فرو ہونے کے بعد کشمیر میں آباد ہو گیا تھا اور سب لوگ بت پرستی میں مشغول تھے۔یوز آصف پیغمبر کشمیری لوگوں کی رسالت پر مبعوث ہوئے۔تو حید کی راہ کی طرف دعوت دیتے تھے یہاں تک کہ اسکی موت کا سال آیا اس زمانہ میں (ان کا مدفن ) روضہ بل کے نام سے مشہور۔در ہے۔871ھ کے سال سید نصیر الدین موسیٰ علی رضا کی اولاد سے یوز آصف کے قریب میں دفن ہوا۔چونکہ زیارت گاہ عوام وخواص کا مرجع ہے اور رحمان خاں مذکور قدیم زمانہ سے نسلاً بعد نسل زیارت گاہ کا خادم ہے۔جس قدر سب بڑوں اور چھوٹوں کی نذرونیاز پہنچتی ہے وہ اسکا حقدار ہے۔دوسروں کو ورثہ کا استحقاق نہیں ہے۔لہذہ یہ وثیقہ سندر ہے۔( مرقوم 11 جمادی الثانی 1194ھ ) او پر فارسی عبارت جو ہم نے نقل کی ہے وہ قبل مسیح نامی کتاب سے لی گئی ہے جو مفتی محمد صادق صاحب مرحوم نے لکھی ہے۔عبارت کے نقل کرنے پر کاتب نے بہت سی غلطیاں کی ہیں۔بعض الفاظ کی ہم نے اصلاح کر دی ہے اور بعض کو اصل حال پر چھوڑ دیا ہے اور شروع کی عبارت کا جو رحمان کے بیان پر مشتمل ہے مفہوم دے دیا ہے۔