مسیح کشمیر میں

by Other Authors

Page 96 of 128

مسیح کشمیر میں — Page 96

96 ماسکو سے شائع ہوا۔اردو ترجمہ کے دیباچہ نگار نے لکھا ہے کہ یوز آسف کی وفات تقریبادوسو سال بعد کتاب ”یوز آسف بلوہر کو مرتب کیا گیا ہے۔بدھوں نے اس میں اپنا رنگ بھرا ہے، عیسائیوں نے یوز گیا۔آسف کو مسیحی اولیاء میں شامل کر کے اپنا رنگ بھرا ہے اور مسلمان یوز آسف کو اپنا بزرگ سمجھتے ہیں اور اسلام سے قبل اہل کشمیر کا پیغمبر مانتے ہیں۔الغرض خُذْ مَا صَفَا ودَعُ مَا كَدَرُ کے مطابق زوائد اور ملاوٹوں کو چھوڑ کر اس میں یوز آسف کے جو مواعظ تمثیلیں اور حکایات و حالات درج ہیں جوار دو ترجمہ میں تین سو صفحات تک پھیلے ہوئے ہیں ، خاص خاص مقامات کا منتخب حصہ یہ ہے کہ: 3- یوز آسف نے عالم رویاء میں بہشت کی سیر کی۔جسکے بعد دنیا کا عیش و آرام اسکی نظر میں بیچ ہو گیا اور اس نے فرشتہ کی بشارت پا کر دنیا سے کنارہ کشی کر کے جنگل کی راہ لی ، جہاں اس نے خواب میں ایک شفاف چشمہ کے کنارے سرسبز و شاداب اور پھلا پھولا درخت دیکھا جس کے میوے لذیذ اور شاخوں پر بیشمار پرندے بیٹھے ہوئے تھے وہ اس درخت کو دیکھ کر بہت خوش ہوا اور اسکی تعبیر کرنے لگا کہ درخت دراصل ایمان اور وہ بشارتیں (انجیل ) ہیں جن کی طرف میں لوگوں کو دعوت دیا کرتا ہوں اور پانی کے چشمہ سے علم و حکمت کی طرف اشارہ ہے اور پرندوں کی تعبیر وہ کثیر التعداد لوگ ہیں جو میرے ذریعہ ہدایت پائیں گے۔اس کے بعد اسے چار فرشتے نظر آئے جنہوں نے یکے بعد دیگرے اسے تعلیم دی۔ایک بار فرشتے اسے عالم بالا میں لے گئے اور وہاں اس پر عالم ارواح ، عالم اجسام اور عالم آخرت کا راز پوری طرح کھولا گیا اور ان چاروں فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہمیشہ اسکے ساتھ رہا۔-4 وہ راجہ جنیسر کی رعایا کو ملک شولا بت میں راہ راست پر لایا اور اسکے بہت سے یارو مددگار پیدا ہو گئے۔وہ دوسرے بہت سے شہروں میں پھرا اور آخرکار کشمیر پہنچ کر لوگوں کو ہدایت کی اور اپنے مریدا با بیل کو اپنا قائم مقام کر کے وفات پائی۔وفات کے وقت انہوں نے وصیت کی۔5۔میں نے لوگوں کو تعلیم دی ، خدا سے ڈرایا، بیعت کی نگہداشت کی اور اگلے لوگوں کے چراغ کو روشن کیا اور ایمان والوں کی جماعت کو جو منتشر تھی مجتمع کیا اور اسی غرض کیلئے میں بھیجا گیا تھا۔اب دنیا سے عالم بالا کی طرف میرے اٹھائے جانے کا وقت آپہنچا ہے۔تم سب کو لازم ہے کہ اپنے فرائض کی نگہداشت کرو اور جس حق کو میں نے قائم کیا ہے اسے ہاتھ سے نہ جانے دو اور میرے بعد میرے شاگرد ابا بیل کو اپنا سر دار سمجھو۔اسکے بعد اس نے ابابیل سے کہا میرے لئے تھوڑی سی جگہ صاف کرو، جس پر وہ پاؤں پھیلا کر لیٹ گیا اور سرکو حربی ( غربی؟) کی طرف اور منہ کو مشرق کی طرف کر کے اس جہان سے گزر گیا۔کتاب یوز آصف و بلو ہر مذکور ( ملخصاً) اکمال الدین صفحه 359 مطبوعہ طہران