مسیح کشمیر میں — Page 87
86 87 چار کتبوں کا ذکر موجود ہے۔تیسرے کتبے کے الفاظ وہ یوں درج کرتے ہیں : دریں وقت یوز آصف دعوی پیغمبری میکند سال پنجاه و چهار جب یہ تاریخیں لکھی گئیں اس وقت یوز آسف کے ذکر والے کتبے مٹے نہ تھے بلکہ صاف پڑھے جاتے تھے۔3- تیسری کتاب میجر ایچ۔ایچ۔کول کی ہے۔وہ اپنی کتاب ”ایلسٹریشن آف انیشنٹ بلڈنگ ان کشمیر میں پہلے دو کتبوں کا فوٹو شامل کرتے ہیں مگر اس وقت سکھوں نے چونکہ دوسرے کتبے مٹا دیے تھے اسلئے ان کے متعلق لکھتے ہیں کہ وہ مٹے ہوئے نقوش ہیں جو دونوں دیواروں کے اطراف پر فارسی زبان میں لکھے ہوئے موجود ہیں۔(صفحہ 5) -4 چوتھی کتاب پنڈت رام چند کاک کی ہے۔وہ انمیشنٹ مینومنٹس آف کشمیر میں دوکتبوں کی عبارت نقل کر کے باقی دو کتبوں کے متعلق لکھتے ہیں کہ یہ دو کتبے پچھلی دوصدیوں میں مٹا دیے گئے۔عبارت کا نقش ابھی تک موجود ہے جو فارسی رسم الخط میں ہے۔(صفحہ 74) پیرزادہ غلام حسن نے سیڑھیوں کے دونوں پہلوؤں کی دیوار پر جن دو عبارتوں کا ذکر کیا ہے ان کا ترجمہ یہ ہے۔(1) اس وقت یوز آسف نے اپنی نبوت کا اعلان کیا۔(2) وہ یسوع پیغمبر بنی اسرائیل ہے۔پھر لکھا ہے جب سکھوں نے کشمیر فتح کیا تو یہ عبارتیں مٹادی گئیں ، یہ اب بھی نظر آتی ہیں مگر صاف طور پر پڑھی نہیں جاتیں۔( تاریخ کشمیر پیرزادہ غلام حسن باب 25 ریسرچ لائبریری سرینگر ) راجہ گو یادت اور یوز آسف کا زمانہ مؤرخین لکھتے ہیں کہ یوز آسف راجہ گو پادت کے زمانہ میں کشمیر میں آئے تھے ، راجہ گو پادت کے زمانہ میں کافی اختلاف ہے۔اس کا عہد چار سو سال قبل مسیح سے لے کر ایک سوسال قبل مسیح تک بیان کیا جا تا ہے۔انگریزی کتاب ”جیز زان ہیون آن ارتھ میں اس راجہ کے عہد حکومت کی تعیین کے متعلق ایک باب قائم کیا گیا ہے اور اس میں تمام مروجہ سنوں پر پر مفصل بحث کی گئی ہے اور ثابت کیا گیا ہے کہ اس راجہ کا عہد متعین کرنے میں غلطی واقع ہوئی ہے۔دراصل اس راجہ کا عہد حکومت 49ء سے 109 ء تک ہے اور تخت سلیمان کے کتبوں میں جو سال پنجاہ و چہار (54ء) لکھا گیا ہے وہ دراصل 3154 لوکی کا کے مطابق ہے جو راجہ گو پادت کے زمانہ میں رائج تھا اور پنڈت کلہن نے بھی راج ترنگنی میں لوگک سنہ ہی استعمال کیا ہے