مسیح کشمیر میں — Page 86
98 86 حضرت مسیح کا رفع الی اللہ اور کشمیر مصنف تاریخ مذکور نے جو یہ الفاظ لکھے ہیں کہ یوز آسف بیت المقدس سے وادی اقدس (کشمیر) کی طرف مرفوع ہوئے اس سے ظاہر ہے کہ مصنف موصوف کے نزدیک قرآن شریف کی آیت بَلْ رَفَعَهُ الله إِلَيْهِ ( النساء آیت 159) کے یہ معنی تھے کہ حضرت مسیح کشمیر کی مقدس وادی کی طرف مرفوع ہوئے یعنی اس بلند سر زمین کی طرف ہجرت فرمائی نہ کہ آسمان کی طرف۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ سلطان زمین العابدین بدشاہ کے عہد میں مصنف موصوف کا عقیدہ یہ تھا کہ حضرت عیسی آسمان کی طرف نہیں بلکہ کشمیر کی طرف مرفوع ہوئے تھے کیونکہ یوز آسف اور یسوع پیغمبر بنی اسرائیل کو ایک ہی شخصیت قرار دے رہے ہیں اور آیت و أوَيْنَا هُمَا إِلى رَبُوَة سے بھی اسکی تائید ہوتی ہے کہ حضرت مسیح رفع الی اللہ کے ایک معنی کشمیر جنت نظیر کے محفوظ اور بلند و بالا علاقہ میں آپ کو عزت دیے جانا تھے۔اس تاریخ کے حوالہ کے مطابق راجہ گو پادت نے ہندوؤں کے جھگڑے کا معاملہ تصفیہ کیلئے حضرت عیسی کے پیش کیا اور جو فیصلہ کیا اسے کشمیر کی ہندو رعایا نے قبول کر لیا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ راجہ گو یادت ( راجہ کشمیر ) بھی حضرت عیسی کا عقیدت مند تھا اور یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ کشمیر میں حضرت عیسی کے پیروؤں کی کثرت ہوگی۔اگر ایسا نہ ہوتا تو بادشاہ ہندور عایا کا جھگڑا فیصلہ کیلئے حضرت عیسی کے پیش نہ کرتا۔تخت سلیمان کے کتبوں میں مسیح کے دعویٰ نبوت کا ذکر تخت سلیمان جس کا ذکر اوپر کے اقتباس میں ہوا ہے کشمیر کا قدیم معبد ہے جو ہندوؤں کے قبضے میں تھا اس کے دو مقابلے کی دیواروں کے اندر سیڑھیاں بنائی گئی ہیں۔ان دو دیواروں اور معبد کے دوستونوں پر فارسی زبان کے خط ثلث میں چار کتبے لکھے ہوئے ہیں۔دو کتبے تو صاف پڑھے جاتے ہیں لیکن دیواروں کے دو کتبے سکھوں کے عہد میں جب 1819ء میں انکا قبضہ کشمیر پر ہوا تھا، مٹادیے گئے۔مٹے ہوئے نقوش اب بھی نظر آتے ہیں مگر پڑھے نہیں جاتے۔مثلاً نادری کی مذکورہ تاریخ کشمیر کے علاوہ جن تاریخوں اور آثار قدیمہ پر مشتمل کتابوں میں ان کتبوں کا ذکر آتا ہے ان میں سے ایک خواجہ حسن ملک (چیوڈارہ) کی تاریخ کشمیر ہے انہوں نے یہ تاریخ جہانگیر بادشاہ ہند کے عہد میں لکھی تھی۔وہ ان چاروں کتبوں کی موجودگی کا ذکر کرتے ہیں لیکن انکا متن درج نہیں کرتے۔(دیکھو صفحہ 11-12) 2۔دوسری مفتی غلام نبی خانیاری کی کتاب و جیز التاریخ ہے جو 1857ء میں لکھی گئی اس میں