مسیح کشمیر میں — Page 88
88 اور آج کے زمانوں کی طرح قدیم زمانہ میں بھی سنہ لکھتے وقت صدیاں حذف کی جاتی تھیں۔مثلاً جب 3154ء ہوتا تھا تو اختصاراً صرف 54 لکھا جاتا تھا جیسا آج کل بھی رواج ہے کہ مثلاً آج عیسوی 1960ء ہے تو اسے بطور اختصار 60ء لکھا جاتا ہے اور صدیاں حذف کی جاتی ہیں اور 3154 لولک 78 عیسوی کے مطابق ہوتا ہے۔خواجہ موصوف کی بحث سے قطع نظر مؤرخین کشمیر پہلی صدی عیسوی میں بھی ایک راجہ گو پادت کا ذکر کرتے ہیں جو گو پارت اول کی نسل سے تھا۔جس کے متعلق لکھا ہے کہ یہ راجہ قندہار کے پاس کشمیر سے جا کر پناہ گزین ہوا تھا۔گو پادت ایک خطاب ہے جو کئی راجاؤں نے اختیار کیا۔(دیکھو مکمل تاریخ کشمیر از محمد دین فوق حالات گوپادت) کشمیر کی قدیم تاریخ راج ترنگنی میں ابتدائی راجاؤں کے حالات بلا تعیین زمانہ لکھ دیے گئے ہیں اور قدیم ہندو تاریخوں کا یہی حال رہا ہے۔بالکل ممکن ہے کہ حضرت مسیح گو پادت دوئم کے زمانہ میں کشمیر آئے ہوں اور مسلسل تاریخ نہ ہونے کی وجہ سے اسے گو پادت اول کی طرف منسوب کر دیا گیا ہو۔اس کا موید قرینہ یہ ہے کہ گو پادت دوئم کے عہد میں ہمیں تاریخ میں سند یمان کا ذکر ملتا ہے اور سند یمان کے گرو ایشاں دیو کا بیان بھی تاریخ کشمیر میں ملتا ہے۔اس لحاظ سے سنین کا اختلاف ختم ہو جاتا ہے۔پہلی صدی عیسوی میں سند یمان ، دیو اور گو پادت متنوں کا ذکر اس ایمان کو تقویت دیتا ہے کہ یہ واقعات گو پارت دوم سے تعلق رکھتے ہیں نہ اول سے۔یوز آسف کے صلیبی زخم کشمیر میں مندمل ہوئے کشمیر میں ایک اور قلمی تاریخ عربی زبان میں ہے۔ہماری جماعت کے ایک معزز فردسید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب جب 1932ء میں کشمیر میں گئے تھے تو انہوں نے اس قلمی تاریخ کو وہاں دیکھا تھا۔اس میں یوز آسف کے متعلق جس صفحہ میں ذکر کیا گیا ہے شاہ صاحب نے اس کا فوٹو لے لیا تھا جو قادیان میں محفوظ ہے۔اس عربی قلمی تاریخ میں لکھا ہے: یوز آسف بڑا بزرگ انسان تھا جو باہر سے کشمیر میں آیا اور اہل کشمیر کو وعظ ونصیحت کرتا ، اسکی نصیحت سے لوگوں نے نیکی اختیار کر لی۔وہ بیماروں کو اپنی دعا سے صحت دیتا تھا۔شروع شروع میں وہ غمگین رہتا تھا لیکن قریباً 65 سال اس ملک میں رہنے اور بہت اہل کشمیر کی اصلاح کے بعد اس کے ہموم نفس دور ہو گئے۔جب وہ کشمیر آیا تو ایشاں دیو عیسی دیو ہی کی بگڑی ہوئی صورت نظر آتی ہے۔دیو سنسکرت میں دیوتا اور دیوتا پیغمبر کے ہم معنی ہے۔پس عیسی دیو کے معنی ہوئے عیسی پیغمبر۔انگریز متر جموں نے عیسانا دیو لکھا ہے یہ بھی عیسی ہی کا بگڑا ہوا تلفظ ہے۔