مسیح کشمیر میں — Page 113
113 باب دہم حضرت مریم صدیقہ کا سفر ہم آیت سوره مومنون وَ أَوَيْنَا هُمَا إِلَى رَبُوَة (الآية ) کے تحت شروع کے ابواب میں واقعہ صلیب کے بعد حضرت عیسی و مریم دونوں ماں بیٹوں کے اکٹھے ہجرت کرنے کا ذکر کر آئے ہیں۔آیت مذکور کی رُو سے حضرت عیسی و مریم دونوں کیلئے ربوہ یعنی کشمیر میں پہنچ کر نشان بننا اور یہاں امن و آزادی سے مستقل رہائش اختیار کرنا ضروری ٹھہرتا ہے جیسا ہم پہلے بھی اشارہ کر چکے ہیں۔مسلمانوں اور عیسائیوں دونوں کے لٹریچر سے اس امر کی تائید ہوتی ہے کہ حضرت مسیح و مریم نے واقعہ صلیب کے بعد جبکہ یہودیوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کی نبوت کی تکذیب کی اور آپ کو قتل کرنے کے درپے ہوئے اور آپ کو قتل کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا۔الہی تدبیر کے مطابق جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں، حضرت عیسی صلیبی موت سے بچ گئے تھے۔آپ نے فلسطین سے مخفی ہجرت کی۔اس سفر میں آپ کی والدہ ماجدہ آپ کو راہ میں مل گئیں کیونکہ ان کا بھی واقعہ صلیب کے بعد فلسطین میں رہنا ایک دشوار امر تھا۔مسیح کے شاگر د یوحنا نے جس کے سپر د واقعہ صلیب کے وقت آپ نے اپنی والدہ کو کیا تھا آپ تک پہنچا دیا۔مسیح و مریم کے اکٹھے ہجرت اور زمین میں سیاحت کا ذکر بعض اسلامی تفاسیر میں ملتا ہے جیسا محمد بن حسین مسعود فراء بغوی (المتوفی 516ھ) نے اپنی مشہور تفسیر معالم التنزيل “ میں زیر آیت فَلَمَّا أَحَسَّ عِيسَى مِنْهُمُ الْكُفْرَ ( آل عمران ) لکھا ہے فَلَمَّا بَعَثَهُ اللَّهُ تَعَالَى بَنِي إِسْرَائِيلَ وَأَمَرَهُ بِا لدعوةِ نَفَتهُ بَنُو إِسْرَائِيلَ وَ أَخْرَجُوهُ فَخَرَجَ هُوَ وَأُمُّهُ يَسِيُحَانِ فِي الْأَرْضِ - (تفسیر معالم التنزیل صفحه 160) یعنی جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسی کو بنی اسرائیل کی طرف مبعوث کیا اور انکو دعوت دین کیلئے مامور کیا، تو بنی اسرائیل نے آپ کو وطن سے نکال دیا ( نکلنے پر مجبور کر دیا ) اس پر حضرت مسیح اور آپ کی والدہ دونوں نکل گئے اور دونوں ملک سے باہر زمین میں سیاحت کرتے رہے۔اسی طرح ” تفسیر غرائب القرآن “ میں علامہ نظام الدین حسن نیشا پوری نے بھی لکھا ہے کہ حضرت عیسی کی مثال وہی تھی جو رسول اللہ ﷺ کی اپنی قوم میں ہجرت کے وقت تھی ، آپ کمزور تھے،