مسیح کشمیر میں

by Other Authors

Page 114 of 128

مسیح کشمیر میں — Page 114

114 چنانچہ جب یہودیوں نے مسیح کی نافرمانی اور سرکشی اختیار کی تو آپ اور آپکی والدہ دونوں زمین پر سیاحت کیلئے نکل پڑے۔( تفسیر مذکور بر حاشیہ ابن جریر طبری صفحه 197 جلد 3 مطبوعہ مصر) دونوں مفسرین نے یسیحان فی الارض یعنی زمین میں سفر کے عام الفاظ استعمال کئے ہیں۔کسی خاص مقام سے سیاحت کو خاص نہیں کیا لفظ ” ارض کی عمومیت ظاہر کر رہی ہے کہ جہاں جہاں مسیح زمین میں گئے ، حضرت مریم آپکی والدہ آپکے ہمراہ تھیں۔نیز یہ کہ دونوں کے فلسطین سے نکل جانے کے بعد دونوں کی ہجرت فلسطین سے کسی دوسری پناہ گاہ کیلئے زمیں پر ہی ہوئی ، آسمان کی طرف نہیں جیسا کہ قرآن کریم کی مذکورہ بالا آیت سورہ مومنون سے ظاہر ہے۔مکاشفہ یوحنا باب 12 کے مطابق عورت (جس سے کیتھولک انجیل میں مریم مراد ہے) بیابان کو بھاگ گئی اور قرآن شریف کی سورہ مومنون کی آیت میں مسیح و مریم کی پناہ گاہ کیلئے ربوہ کا لفظ استعمال ہوا ہے اور وہ کشمیر ہے جس کی تفصیل پہلے باب میں گزر چکی ہے۔عیسائی روایات جب حضرت مسیح صلیب پر تھے تو انجیل یوحنا کے مطابق حضرت مسیح نے اپنی محبوب والدہ کو یوحنا کی کفالت میں دیدیا۔(یوحنا باب 19 آیت 26/27) واقعہ صلیب کے بعد ڈیڑھ ماہ تک حضرت مریم حواریوں کے ساتھ مل کر عبادت میں حصہ لیتی رہیں۔(اعمال باب 1 آیت 4) امریکن انسائیکلو پیڈیا میں زیر لفظ MARY‘ میں لکھا ہے کہ اسکے بعد ہمارے پاس کوئی یقینی ذریعہ نہیں کہ حضرت مریم کہاں گئیں اور نہ ہمیں علم ہے کہ کب اور کس جگہ وفات پائی۔حضرت مسیح کے بعد قرون اولیٰ میں حضرت مریم کے بارہ میں عیسائیوں میں مختلف خیالات پائے جاتے تھے۔بعض کہتے تھے کہ یوحنا حواری جب ایشیا میں گئے تو حضرت مریم بھی ہمراہ تھیں۔اس روایت کی رو سے مشہور ہوا کہ حضرت مریم نے افسنس ( ایشیائے کو چک ) میں وفات پائی۔مکاشفات یوحنا عارف باب 12 میں ابلیس کے حملہ سے ایک عورت کے بیچ نکلنے اور بیابان میں ہجرت کر جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔قرون اولیٰ کے عیسائی سمجھتے تھے کہ یہ کشف مریم کی ذات پر منطبق ہوتا ہے۔آثار قدیمہ سے جو انا جیل حال ہی میں نکلی ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ حضرت مسیح کے ساتھ تین مریم