مسیح کشمیر میں

by Other Authors

Page 93 of 128

مسیح کشمیر میں — Page 93

93 موصوف کی منقولہ بالا عبارت درج کی گئی ہے اور اسکا عنوان ہے روضہ حضرت یوز آسف خانیار قبر کے سر ہانے قدیم زبان میں جو کتبہ لگا ہوا تھا اب وہ غائب ہے۔اسکی جگہ مذکورہ کتبہ لگا دیا گیا ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ مقبرہ یوز آسف قدیم سے زیارت گاہ خواص و عوام چلا آ رہا ہے۔مقبره یوز آسف کے مجاوروں کا تولیت نامہ مقبرہ یوز آسف کے مرجع و زیارت گاہ خواص و عوام ہونے کا ذکر ایک اور دستاویز میں بھی ملتا ہے یہ دستاویز مزار یوز آسف کے مجاور مستمی سیف الدین کے پاس قدیم خاندانی دستاویز کی حیثیت سے موجود چلی آرہی ہے جو 11 جمادی الثانی 1194ھ رحمان خان ولد امیر یار ( مجاور ) کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے متعدد بزرگوں کے دستخطوں اور مواہیر کے ساتھ خادم شرع محمدی مفتی ملا فاضل نے تحریر کر کے دیدی تھی۔اس وقت مسلمانوں کا دور حکومت تھا۔اس تولیت نامہ کی عبارت درج ذیل ہے۔در ایس دلا در محکمه علمیه دارالعدالت قضا یا حاضر آمده مسمی رحمان خان ولد امیر یار که در حال همین مسنه که بزیارت شریف یوز آسف پیغامبر مقدیکه مشتمل بر صرف امراء وزراء و سلاطین و رؤساو عوام و خواص براه نذر و نیاز بر شدان را کلیته ولی حقدار است دیگران را از مداخلت امتناع بود بعد اخذ شهادت همچنین ثابت شد که در عهد حکومت راجه گوپانند که بانی عمارت کوه سلیمان و بر خانها بسیار است شخصی مرتاض یوز آصف نام بادشاه زاده هندوستان که تارک دنیا شده متورع و مفرداست روزوشب از ریاضت و عبادت خدا وند تعالیٰ نمے آسود اکثر در خلوت می گزارند تا آنکه بعد فرد شدن آب طوفان نوح کشمیر آباد شده بود و مردمان همگی بت پرستی استغال و رزیدند۔یوز آصف پیغامبر برسالت مردمان کشمیر مبعوث شده براه توحید میخواند تاسال رجلش در رسیده و ممات یافت که در این زبان باسم روضه بل مشهور است بسال 871 سید نصیر الدین از اولاد امام موسی علی رضا است بجواد یوز آصف تدفین گزید چونکه زیارت گاه مرجع خواص وعوام است و رحمان خان مذکور نسلاً بعد نسل خادم زیارت گاه است همیں قدر که عالی ورسافل نذرو نیاز میرسد وراحقدار است و دیگران را استحقاقے ورثے اس جگہ عرض حال کرڈ“ کے الفاظ لگتے ہیں جو شاید کاتب کی غلطی کی وجہ سے رہ گئے ہیں۔