مسیح کشمیر میں — Page 81
81 سے قریب ساڑھے پانچ سو برس پہلے کی تھی کہ " میرے بعد متیا آئے گا جو میرا چھٹامرید ہوگا۔متیا پالی زبان میں عبرانی زبان کے مشیحا کا تلفظ ہے۔بدھ نے اس کا ایک نام بگو متیا بھی بتایا تھا۔بگوا کے معنی سفید رنگ کے ہیں اس سے اشارہ تھا کہ وہ کسی باہر کے ملک سے یہاں آئے گا کیونکہ سفید رنگ ہندوستانیوں کا نہیں ہوتا۔بلکہ ان کا رنگ سیاہ یا سیاہی مائل ہوتا ہے۔دیکھو بدھ مت کی کتاب لگاوتی سننا ) ( بحوالہ مسیح ہندوستان میں ) حضرت مسیح بدھ کے بعد چونکہ چھٹی صدی میں ہندوستان آئے تھے اسلئے بدھ نے کہا تھا کہ وہ میرا چھٹا مرید ہوگا۔اس لئے کہ اس وقت بدھ مت میں کافی خرابیاں پیدا ہوگئی تھیں جن کی اصلاح مسیح نے کی تھی اور یہاں آکر دعویٰ نبوت بھی کیا تھا اور کہا تھا کہ مجھے خدا نے یہاں اصلاح و تبلیغ کیلئے بھیجا ہے۔چنانچہ بدھ مت کے تقویٰ شعار لوگ مسیح کو بدھ کی پیشگوئی کا مصداق قرار دیکر اس پر ایمان لائے تھے اور پھر دوسو سال بعد اپنی کتابوں میں بدھ کی سوانح کے ساتھ مسیح ناصری کی سوانح بھی درج کر دی جو نسلاً بعد نسل بدھ مذہب کے لاماؤں کے پاس اب تک موجود ہیں بلکہ ساتویں صدی عیسوی کی وہ کتابیں بھی دستیاب ہو گئی ہیں جن میں مسیحا کومی شی ہو ( مسیح) کے تلفظ سے ادا کیا ہے۔جیسا سرمونیر ولیم نے بدھ ازم نامی کتاب میں لکھا ہے۔روسی سیاح نکولس نوٹو وچ کی کتاب کی اشاعت سے جب مسیحی دنیا میں شور اٹھا اور بعض متعصب عیسائی مسیح کی نا معلوم زندگی کے حالات کو جعلی قرار دینے لگے تو کتاب کے دوسرے ایڈیشن میں مصنف نے مسیحی دنیا کو چیلنج کیا کہ ایک وفد کشمیر بھیجا جائے جو ان واقعات کی تحقیقات کرے جو میں نے پیش کئے ہیں۔اس چیلنج کو سوائے ایک مسیحی خاتون لیڈی میٹرک کے اور کسی نے منظور نہ کیا۔وہ دارالخلافہ لداخ لیہ پہنچ کر ان واقعات کی تحقیقات کرتی رہی اور بعد میں اس نے اپنی تحقیقات کے نتائج کو شائع کیا۔یہ فاضل خاتون لگھتی ہیں۔لیہ شہر میں ہمیں مسیح کی کہانی ملتی ہے جو یہاں عیسی کے نام سے مشہور تھا۔اس علاقہ میں مسیح کو خوش آمدید کہی گئی اور یہاں اس نے لوگوں کو تعلیم دی۔(ان دی ورلڈ اٹیک صفحہ 215) ہندوستان میں عیسیٰ کی تعلیم نکولس نوٹو وچ کی کتاب یسوع کی نامعلوم زندگی کے حالات میں مذکور ہے کہ ہندوستان میں عیسی نے تعلیم دی کہ :