مسیح کشمیر میں — Page 80
80 60 باب ہشتم بدھ مذہب کے لٹریچر میں کشمیر میں مسیح کی آمد کا ذکر واضح ہو کہ عیسائی لٹریچر میں مسیح کی زندگی کے صرف چند سالوں کے حالات ملتے ہیں۔واقعہ صلیب کے بعد کی زندگی کے حالات عیسائی لٹریچر میں کہیں نہیں ملتے۔جب سے مسیح کی مشرقی زندگی کا انکشاف ہوا ہے تب سے انکی نا معلوم زندگی کے حالات منظر عام پر آنے لگے ہیں۔یہ عجیب بات ہے کہ بدھ مذہب کے قدیم لٹریچر میں بھی نہ صرف حضرت مسیح کے کشمیر آنے کا ذکر ملتا ہے بلکہ انکی زندگی کے بارے بہت سے حالات کا پتہ چلتا ہے جو مسیح کو مشرق میں پیش آئے۔حال ہی میں تبت سے ایسی الجیلیں برآمد ہوئی ہیں جن میں مسیح کی نامعلوم زندگی کے حالات ملتے ہیں۔یہ انجیلیں بدھ مت کے قدیم لٹریچر میں شامل ہیں۔انہی ایام میں حضرت مرزا غلام احمد مسیح موعود علیہ السلام نے دنیا کے سامنے مسیحیت کا دعویٰ پیش کیا۔ایک روسی سیاح نکولس نوٹو وچ نے 1890ء کے قریب بدھوں کے مٹھ واقعہ لیہ ( دارالخلافہ لداخ ) سے یسوع مسیح کی نا معلوم زندگی کے حالات دریافت کر کے فرانسیسی اور انگریزی زبانوں میں شائع کر دیئے اس کتاب میں یہ روسی سیاح لکھتا ہے : ہمس کی خانقاہ کے لاما (مذہبی پیشوا ) نے حیات مسیح پر مشتمل وہ نسخے مجھے پڑھ کر سنائے جو کہ تبتی زبان کے گونا گوں نسخوں سے ترتیب دئے گئے تھے۔یہ نسخے لاسہ لائبریری کے دستاویزات سے ترجمہ کئے گئے تھے۔یہ دستاویزات ہندوستان، نیپال اور مگدا سے مسیح سے دو سو سال بعد لاسہ لائبریری میں لائی گئیں مسیح کے متعلق جو معلومات بہم پہنچائی گئیں انکو عجیب و غریب طور پر بغیر رابط و تعلق اس زمانہ کے دوسرے واقعات کے ساتھ خلط ملط کر دیا گیا تھا۔“ (یسوع مسیح کی نامعلوم زندگی کے حالات صفحہ 51) نکولس نوٹو وچ نے حضرت مسیح کے صلیبی واقعہ کے ذکر کے علاوہ مسیح کی ان تعلیمات کا بھی ذکر کیا ہے جو اس نے ایران میں زرتشت مت اور ہندوستان میں بدھ مت اور ہندومت کے بدعات و نا مشروعات کے بالمقابل پیش کیں۔بدھ لٹریچر سے پایا جاتا ہے کہ ہندوستان میں بدھ مت کے اس وقت کے پیروؤں نے میسیج کو بدھ کا مثیل ( اوتار ) قرار دیا اور مسیح کو گوتم بدھ کی اس پیشگوئی کا مصداق قرار دیا جو انہوں نے مسیح