مسیح کشمیر میں — Page 82
82 1۔شودا اور ولیش جن کو ہندو ذلیل سمجھتے ہیں، بحیثیت انسان کے برابری کا حق رکھتے ہیں۔-2- کسی کو کسی انسان کی حق تلفی کا اختیار حاصل نہیں ہے کیونکہ پر میشر سب مخلوق کا باپ ہے اور باپ کو سب بچے یکساں پیارے ہوتے ہیں۔-3 وید و پران الہامی نہیں ہیں اور پہلے سے انسان کی راہنمائی کیلئے ایک قانون موجود ہے۔4- خدا کا خوف کرو اور اسی کے آگے سر جھکاؤ اور اسی کے آگے بھینٹ ( قربانی ) دھرو۔5- تری مورتی وشنو شیو اور دیگر دیوتا خدا کے شریک نہیں تھے۔حاکم ابدی اور روح ابدی ایک ہی اکھنڈ آتما ہے اور وہی سرشٹی کا کرتا ، بالک اور بیل داتا ہے۔6- اس نے پیدائش کی ہے۔وہی ہمیشہ سے ہے وہی ہمیشہ رہے گا اور آسمان وزمین میں اس کا کوئی ہمسر نہیں۔7- خدا نے کسی ذی روح کو اپنی طاقت میں شریک نہیں کیا، چہ جائیکہ کسی غیر ذی روح کو شریک کرتا کیونکہ وہی قادر مطلق ہے۔8۔اس نے سب پانی سے خشک حصہ کو علیحدہ کیا اور انسان کو پیدا کیا اور اس میں اپنی روح پھونکی اور تمام کائنات کو اس کے تابع کیا۔وہ ہمیشہ اسی حالت پر رہتا ہے اور ہر چیز کی ہستی کیلئے وقت معین کر رکھا ہے۔9- انسان بھول گیا ہے اسلئے خدا کا غضب جلد نازل ہوگا۔اس نے پر میشور کے مندروں کو نا پاک چیزوں سے بھر رکھا ہے اور وہ ان اشیاء کی پوجا کرتا ہے جن کو خدا نے اس کے تابع کیا ہے۔وہ پتھر اور دھاتوں کی مورتیوں کیلئے انسان کی قربانی کرتا ہے جس میں خدا کی عظیم روح پھونکی گئی ہے۔نیز وہ شبانہ روز محنت کرنے والوں کو بیش قیمت نعمتوں کے خوان پر بیٹھنے والے سست الوجود کی مہربانی حاصل کرنے کیلئے حقیر جانتا ہے، جو اپنے بھائیوں کو اعلیٰ خوشیوں سے محروم رکھتے ہیں وہ خودان سے محروم رہیں گے۔براہمن اور کھشتر می شودر بنیں گے اور شودروں کے ساتھ پر ماتما ہمیشہ رہے گا۔