مسیح کشمیر میں — Page 68
68 یہود غیر قوموں میں جا بجا پھیلے ہوئے ہیں ) تیرے نام کی ثناء کروں گا۔اپنے وطن سے بے وطن کئے جانے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: پس مجھے میرے وطن سے نکال دیا گیا ہے جیسے پرندے کو گھونسلے سے ، میرے عزیز واقارب مجھے چھوڑ گئے۔وہ مجھے ایک ٹوٹا ہوا برتن سمجھتے ہیں، لیکن اے خدا! تو شیطان کے تمام حربوں کو ناکام بنادے گا۔“ (زبور 3) (زبور 8 - الف) غیر ملکوں میں مسیح کی قبولیت اور نصرت الہی کا بھی ان زیوروں میں ذکر ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ جب مسیح اجنبی ممالک میں تھے تو وہاں انہوں نے اپنی دعاؤں میں اپنی قبولیت کا جو ذکر کیا ہے وہ زبور بھی بحیرہ مردار میں پہنچا کر محفوظ کئے گئے۔چنانچہ زبور 1 میں فرمایا : ” خداوند ! میں تیری حمد کرتا ہوں کہ تو نے ایک غیر اور اجنبی ملک کے سفر میں بھی میرا ساتھ نہیں چھوڑا۔۔۔۔تو بے بسی میں میرا آسرا ہوگا۔تو مجھے ایک اجنبی سرزمین میں لے آیا ہے۔اے میرے خداوند! تو مجھے بنی آدم سے مخفی رکھے گا۔“ (زبور 1) ان زبوروں میں زبور پڑھنے والے نے اپنے آپ کو باندی کا بیٹا کہا ہے اور یہ انکی مخبری یہودیوں نے رومی حکومت کے پاس کی اور انکی جان لینے کی کوشش کی اور بعد میں وہ غیر ملکوں میں منتشر یہودیوں میں تبلیغ کیلئے وطن سے ہجرت کر گئے اور وہاں انہیں قبولیت حاصل ہوئی اور بلند و بالا حفاظتی دیوار کے ملک میں وہ بس گئے۔پس وہ حضرت عیسی کے سوا اور کون ہو سکتے ہیں۔جمع بحیرہ مردار کے صحائف اور زبوروں کے تفصیل مطالعہ کیلئے دیکھئے اصحاب کہف کے صحیفے اور صحائف قمران“ از شیخ عبدالقادر صاحب لاہور۔