مسیح کشمیر میں

by Other Authors

Page 69 of 128

مسیح کشمیر میں — Page 69

باب ششم 69 قدیم ہند ولٹر پچر میں مسیح کے کشمیر میں آنے کا ذکر قرآن ، بائیل اور قدیم آثار مذکورہ دلائل و شواہد کی تائید قدیم ہند ولٹریچر سے بھی واضح طور پر ہوتی ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم (علیہ السلام ) ہمالہ دیش کشمیر میں موجود تھے جبکہ سا کا دیش کے ایک راجہ نے ان سے ملاقات کی تھی اور انہیں انکے ساتھیوں سمیت اس ملک میں بسا دیا تھا۔یہ بیان ہندوؤں کیا ایک مقدس کتاب ”بھوش مہا پر ان میں مذکور ہے جو ان کے اٹھارہ ( 18 ) مقدس پرانوں میں سے ایک ہے۔تاریخی رویات کے مطابق یہ پر ان 115ء میں مرتب کیا گیا اور 1910ء میں مہاراجہ پرتاب سنگھ (راجہ کشمیر ) کے حکم سے سنسکرت میں بمبئی سے شائع کرایا گیا تھا۔اس میں لکھا ہے کہ شک دلیش (سا کا دیش) کے ایک راجہ نے کوہ ہمالیہ کے دامن کشمیر میں عیسی مسیح سے ملاقات کی اور انکے مذہب کے بارے میں معلومات کیں اور راجہ نے انہیں اس ملک میں بسا دیا۔بھوش پر ان میں مسیح کی کشمیر میں راجہ سے ملاقات کا ذکر متعلقہ سنسکرت عبارت کا ترجمہ اردو اور انگریزی میں کئی سنسکرت دانِ علماء نے کیا ہے۔اصل عبارت کا عکس کتاب ہذا میں شامل ہے۔اس عکسی عبارت کا ترجمہ یہاں پنڈت کلہشمن آریہ اپدیشک کی کتاب بھوشیہ پر ان کی الوچنا سے نقل کرتے ہیں۔پھر بعض اور ترجمے بھی نقل کرتے ہوئے ضروری وضاحتیں بھی کریں گے۔پنڈت کلہشمن کا ترجمہ تنقیدی ہے نہ لفظی اور وہ یہ ہے: ایک بار شک دلیش کا راجہ (شالبا ہن ) ہمالہ کی چوٹی پر گیا تو اس طاقتور راجہ نے ”ہون دیش کے بیچ میں پہاڑ پر بیٹھے ہوئے ایک گورے رنگ والے سفید کپڑے پہنے ہوئے پاک انسان کو دیکھا، راجہ نے اس سے پوچھا آپ کون ہیں ؟ وہ خوش ہوکر بولا ، میں کماری کے گر بھ (حمل) سے پیدا ہوا ، خدا کا بیٹا ہوں، میں ملیچھ دھرم (غیر ملکی دھرم ) کا اپدیشک (واعظ ) ہوں اور سیتہ برت کا دھارن کرنے والا ہوں۔یہ سن کر راجہ نے کہا آپ کون سے دھرم کو مانتے ہیں؟ وہ بولا مہاراج! ملیچھ دیش میں سیتہ کے ناش ہونے ( صداقت معدوم ہونے ) اور مریا دا کے ٹوٹ جانے