مسیح کشمیر میں — Page 67
67 ” اے خداوند ! تو مبارک ہے جس نے اپنے دل میں عرفان کا چشمہ کھولا۔اگر تیری رضا ہو تو تو اپنی باندی کے بنے ہوئے جلد کا رفع کرے گا تا کہ وہ تیرے منتخب انسانوں میں شامل ہو اور تیرے حضور ہمیشہ ہمیشہ کھڑا رہے۔“ زبور 12 میں فرماتے ہیں۔66 میں موت کے دروازے تک پہنچ گیا ہوں لیکن بلند و بالا حفاظتی دیوار کے اندر 66 مجھے محفوظ کر دیا جائیگا۔اے میرے خدا! تیری صداقت مجھے بچالے گی۔“ بلند و بالا حفاظتی دیوار میں محفوظ کرنے سے مراد مسیح کو کشمیر جنت نظیر میں پناہ دینا تھا۔جیسا لفظ ربوة ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِین کا بھی مفہوم ہے۔ان قدیم صحیفوں سے یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ مسیح کا ایک نام فلسطین میں یوز آسف بھی تھا، زبور 8 میں فرماتے ہیں: میں عزم لے کر اٹھوں گا اور جب مجھے اذیت کا سامنا ہوگا تو میری روح تو انا ہوگی کیونکہ میں نے تیری کریمی اور تیری رحمت کے چشموں کو سہارا بنایا ہے۔“ زبور چہارم میں فرمایا : ”اے میرے خداوند! میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ تیری نگاہیں میری روح پر مرکوز ہیں۔تو نے مجھے انکے غضب سے بچایا جو تیری جھوٹی حمد کرتے ہیں۔تو نے غریب کی جان بچائی جس کا خون وہ اس غرور کی تشہیر کیلئے بہانا چاہتے تھے کہ وہ تیرے عبادت گزار ہیں انہوں نے شر پسندوں کے کہنے پر مجھے لعنت و ملامت کیلئے چنا لیکن اے میرے خدا!! تو زور آور کے ہاتھ سے بچانے کیلئے غریب اور بے آسرا کی مددکو آ پہنچا۔تو نے مجھے ہمت عطا کی کہ میں انکی شیطانی تدابیر اور رومنوں کے پاس مخبری کے خوف سے تیری عبادت کے ترک کرنے کے گناہ سے بچا رہا۔(زبور 4) زبور 3 میں فرمایا: ” میرا قدم سچائی پر پوری طرح گامزن رہے گا اور میں یہود کے حلقوں میں ( یعنی جو خداوند کی باندی حضرت مریم والدہ مسیح ہیں۔لوقا کی انجیل میں حضرت مریم نے خود فرمایا ” میں خداوند کی باندی ہوں، اس نے اپنی باندی کی عاجزی پر نظر کی ، اب سے ہر زمانہ کے لوگ مجھے مبارک کہیں گے۔“ (لوقا باب 1 آیت 46 تا 48)