مسیح کشمیر میں

by Other Authors

Page v of 128

مسیح کشمیر میں — Page v

V پيش لفظ طبع دوم ہمارے نبی حضرت محمد علی یا اللہ نے امت میں آنے والے مسیح کا ایک اہم کام کسر صلیب بیان فرمایا تھا یعنی انہوں نے عیسائیت کے غلط عقائد کا بطلان کرنا تھا جیسا کہ شارح بخاری علامہ بدرالدین عینی نے اپنی کتاب عمدۃ القاری میں قطعی الہامی علم کی بناء پر اس پیشگوئی کے یہی معنی بیان فرمائے ہیں۔انیسویں صدی کے آخر میں جب ہندوستان کے علاقہ پنجاب میں عیسائی مشن کی بنیاد رکھی جا رہی تھی عین اس وقت خدا تعالیٰ کی تقدیر نے قادیان کی بستی سے حضرت مرزا غلام احمد کو مجد د وقت اور کاسر صلیب کے طور پر کھڑا کیا۔انہوں نے خدا تعالیٰ سے علم پا کر اعلان کیا کہ مسیح ابن مریم رسول اللہ فوت ہو چکا ہے اور اسکے رنگ میں ہو کر وعدہ کے مطابق تو آیا ہے۔آپ نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا اور عیسائیت کا بطلان ثابت کر دکھایا۔مسیح کی صلیبی موت سے نجات اور طبعی وفات کا ثبوت آپ کا ایسا کارنامہ تھا جس سے عیسائیت کی عمارت دھڑام سے زمین پر آ رہی۔مسیح کی صلیبی موت سے نجات کے اس مضمون کو حضرت بانی جماعت احمدیہ نے متعدد کتب و تحریرات میں بیان فرمایا ہے۔1899ء میں آپ نے ایک عظیم الشان کتاب تالیف فرمائی جس کا نام مسیح ہندوستان میں ہے۔اس کتاب کا اصل مدعا مسلمانوں اور عیسائیوں کے بعض غلط عقائد کی اصلاح تھا۔چنانچہ حضور علیہ السلام بیان فرماتے ہیں۔اس کتاب کو میں اس مراد سے لکھتا ہوں کہ تا واقعات صحیحہ اور نہایت کامل اور ثابت شدہ تاریخی شہادتوں اور غیر قوموں کی قدیم تحریروں سے ان غلط اور خطرناک خیالات کو دور کروں جو مسلمانوں اور عیسائیوں کے اکثر فرقوں میں حضرت مسیح علیہ السلام کی پہلی اور آخری زندگی کی نسبت پھیلے ہوئے ہیں“ (مسیح ہندوستان میں، روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 3) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن وحدیث اور کتب سابقہ، تاریخ وطب کی رو سے ثابت فرمایا کہ حضرت مسیح علیہ السلام مصلوب نہیں ہوئے اور نہ آسمان پر گئے بلکہ 120 سال کی عمر میں وفات پا کر سرینگر کے محلہ خانیار میں مدفون ہیں۔حضور علیہ السلام نے اپنی اس تحقیق کو دس ابواب پر منقسم کیا لیکن بعد میں چار